ڈیزل کی قیمت میں فی الفور کمی ضروری ، ملک گیر احتجاج کا انتباہ

نئی دہلی ۔ 14 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) بین الاقوامی کروڈ آئیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس نے ملک میں ڈیزل کی قیمت میں نمایاں کمی کا مطالبہ کیا اور نریندر مودی حکومت پر افراط زر کے معاملہ میں چشم پوشی اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ۔ کانگریس پارٹی ترجمان اجئے کمار نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ڈیزل کی قیمت کو 2010ء کی سطح پر لایا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اگر ڈیزل کی قیمت میں کمی کرتی ہے تو یہ مخالف افراط زر اقدام ہوگا لیکن حکومت بین الاقوامی رجحان سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے بی جے پی قائدین کے ڈیزل کی قیمتوں میں کمی سے متعلق دعوؤں کو بھی مسترد کردیا۔

انہوں نے حکومت پر قیمتوں میں محض 50 پیسے اور ایک روپیہ فی لیٹر کمی کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ معمولی کمی کے ذریعہ تیل کی کمپنیوں کو غیرمعمولی فائدہ پہنچایا جارہا ہے۔ اجئے کمار نے حکومت کو خبردار کیا کہ ڈیزل کی قیمت میں فی الفور کمی نہ کی گئی تو کانگریس ملک گیر سطح پر احتجاج شروع کرے گی۔ انہوں نے یہ جاننا چاہا کہ آخر تیل کی کمپنیوں کو اندھادھند فائدہ پہنچانے کی حکومت اجازت کیوں دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ طرزعمل ہمارے لئے ناقابل قبول ہے۔ کمار نے کہا کہ مرکزی حکومت ڈیزل کی قیمت میں کمی کے نام پر عوام کو ’’لالی پپ‘‘ دے رہی ہے۔ کانگریس نے یہ دعویٰ کیا کہ بین الاقوامی مارکٹ میں تیل کی قیمت میں 46 ماہ کے بعد اب تک کی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ جاریہ سال 26 مئی کو یہ قیمت 6318.76 فی بیارل تھی جو اب 5375.30 فی بیارل ہوگئی ہے۔ اس کے باوجود ملک میں ڈیزل کی قیمت میں مئی سے اب تک 2.26 روپئے فی لیٹر کا اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قیمتوں میں کمی کے بعد یہ ضروری ہیکہ مقامی مارکٹ میں بھی قیمت میں کمی لائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ این ڈی اے حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک 4 مختلف مواقع پر ڈیزل کی قیمت میں 3.9 فیصد کا اضافہ کیا ہے۔ اس کے برعکس بین الاقوامی سطح پر یہ قیمتیں 46 ماہ پیچھے جاچکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب این ڈی اے نے اقتدار سنبھالا اس وقت ڈیزل دہلی میں 56.71 روپئے فی لیٹر فروخت کیا جارہا تھا جو اب 58.97 روپئے فی لیٹر ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا حکومت ڈیزل سے متعلق افراط زر سے بے خبر ہے اور کیا اسے عوام کے ایک بڑے حصہ پر ہونے والے اثرات کا اندازہ نہیں؟ آخر حکومت ڈیزل کی قیمت میں کمی کیوں نہیں کررہی ہے۔ قیمت میں کمی کا راست فائدہ عام ہندوستانی کو کیوں نہیں پہنچایا جارہا ہے۔