نئی دہلی ۔16 جون ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) ڈیزل کی فروخت پر ہونے والا خسارہ ریکارڈ 1.62 روپئے فی لیٹر کی اقل ترین حد تک پہونچ گیا ہے جس کی وجہ سے اس ایندھن کو سرکاری کنٹرول سے آزاد کرنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ اگر روپئے کی قدر مسلسل مستحکم ہوتی جائے اور ماہانہ ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر پچاس پیسے اضافہ کی اجازت دی جائے توٗڈیزل کی قیمتیں ستمبر تک کنٹرول سے آزاد ہوجائیں گی ۔ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈیزل کی پیداوار اور چلر فروشی کی قیمت میں فرق 2.80 سے کم ہوکر 1.62 تک پہنچ گیا ہے ۔ نریندر مودی حکومت پیشرو یو پی اے حکومت کے اس فیصلے پر قائم ہے کہ ماہانہ قیمت میں معمولی اضافہ کرتے ہوئے بتدریج اسے سرکاری کنٹرول سے آزاد کردیا جائے ۔