ڈیجیٹل حیدرآباد، ہنوز ایک خواب

ووٹر لسٹ میں ناموں کے آن لائن اندراج کے اعداد و شمار مایوس کن
حیدرآباد۔/27 ستمبر، ( سیاست نیوز) بی جے پی حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل انڈیا، نیو انڈیا، ای ٹرانزیکشن اور نہ جانے اس ضمن میں کیا کیا نعرے لگائے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ہندوستانی عوام آنے والے چند برسوں میں اپنے یومیہ اُمور کی تکمیل آن لائن کریں گے لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہی بتاتے ہیں جن کی تازہ مثال ووٹر لسٹ میں اپنے ناموں کے اندراج کے لئے 10تا25 ستمبر کا وقت دیا گیا تھا اور اس دوران 18 سال کی عمر مکمل کرنے والے نوجوانوں سے خاص کر مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنا نام ووٹر لسٹ میں شامل کرلیں اور امید کی جارہی تھی کہ نوجوان نسل جو کہ 24 گھنٹے آن لائین رہنا پسند کرتی ہے وہ پلک جھپکتے اپنے فارم کو آن لائن پُر کردے گی لیکن نوجوانوں میں یہ جوش و جذبہ قابل ستائش نہ رہا۔ صرف حیدرآباد کی بات کی جائے تو جی ایچ ایم سی کے کمشنر اور ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر ایم دانا کشور کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ آن لائین کی بجائے آف لائین یعنی کاغذی فارم داخل کرنے والے افراد کی تعداد زیادہ رہی۔ دانا کشور کے بموجب ووٹر لسٹ میں نام درج کرنے کیلئے ریکارڈ 1,77,913 درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں پہلی مرتبہ نام شامل کرنے اور موجودہ تفصیلات میں تبدیلی کی گذارش کی گئی ہے۔ ان درخواستوں میں 92,271 فارم شخصی طور پر داخل کئے گئے ہیں جبکہ آن لائن درخواستوں کی تعداد 44,264 رہی۔ یعنی روایتی طرز پر درخواست دینے والے افراد کی تعداد دگنی رہی۔ ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے یا موجودہ ووٹر کارڈ میں تفصیلات میں تبدیلی کیلئے بہت ہی آسان ویب سائیٹ موجود ہے جس میں آن لائین فارم داخل کرنے کا طریقہ کار بھی بہت ہی آسان فراہم کیا گیا تھا جس میں درخواست گذار کو صرف اپنی تفصیلات ، ایک عدد فوٹو، عمر کی صداقت کیلئے دسویں جماعت کے نمبرات کی سند ( دیگر دستاویزات بھی قابل قبول ہیں ) اور پتہ کی صداقت کیلئے راشن کارڈ کافی تھا اور جن ہاتھوں میں اسمارٹ فون رہتا ہے ان کے لئے مذکورہ بالا اسناد کی تصویر لے کر آن لائین فارم کی خانہ پُری گلی کے کسی بھی نکڑ پر بیٹھ کر کرنا آسان تھا لیکن اس کے باوجود انٹرنیٹ مراکز، ای سیوا اور دیگر مراکز پر برقعہ پوش خواتین کے علاوہ معمر افراد کی لمبی قطاریں دیکھی گئیں جہاں مسلم برادری بے چینی کے ماحول میں اپنے کاغذات کو یکجا کرنے اور اپنے فارم کو داخل کرنے میں پریشان نظر آئی۔ یاد رہے کہ داخل کردہ فارم کی گھر گھر پہنچ کر جانچ 4 اکٹوبر تک مکمل کرلی جائے گی۔