نئی دہلی 15 جون ( سیاست ڈاٹ کام) وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ان کی ڈیجیٹل انڈیا مہم در اصل درمیانی آدمیوں اور دلالوں کے خلاف ایک جنگ ہے ۔ ڈیجیٹل انڈیا مہم کے ذریعہ کالے دھن کو روکنے میں مدد ملی ہے ۔ کالا بازاری کو روکا جاسکا ہے۔ چھوٹے اور دیہی علاقوں میںروزگار کے بہترین مواقع دستیاب ہوئے ہیں۔ ڈیجیٹل انڈیا کوششوں کے استفادہ کنندگان کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے مودی نے کریڈٹ / ڈیبٹ کارڈ کے ہندوستانی انداز RuPay کے استعمال کی وکالت کی اور کہا کہ جب اس طرح کے کارڈز کسی بھی معاملت کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں تو اس کی پروسیسنگ فیس بیرونی کمپنیوں کو چلی جاتی ہے ۔ لیکن جب RuPay کا استعمال کیا جائیگا تو یہ رقم ہندوستان ہی میں رہے گی اور اسے ترقیاتی کاموں کیلئے اور انفرا اسٹرکچر پراجیکٹس کیلئے استعمال کیا جاسکے گا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جب انہو ںنے پہلی مرتبہ ڈیجیل ادائیگیوں کی بات کہی تو ملک میں لوگوں نے ان کا مذاق اڑایا تھا ۔ ملک میں صورتحال ایسی تھی جس میں لوگ رقومات کو اپنے تکئے کے نیچے رکھا کرتے تھے اور کسی درمیانی آدمی کے بغیر راشن کا حصول ممکن نہیں تھا ۔ انہوں نے کہا کہ تاہم حکومت کی اسکیمات کے استفادہ کنندگان نے جو تجربات بیان کئے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح سے یہ خدمات راست عوام تک پہونچ رہی ہیں اور انہیں فائدہ ہو رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اب کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ جب ڈیجیٹل انداز اختیار کیا جائیگا تو پیسہ محفوظ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی سازشیں ہوتی رہیں گی کیونکہ انہوں نے درمیانی آدمیوں کیلئے مسائل پیدا کردئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل انڈیا دلالوں کے خلاف لڑائی ہے۔ ڈیجیٹل انڈیا نے کالے دھن اور کالا بازاری پر روک لگائی ہے اور درمیانی آدمی کو عملاً ناکارہ کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریل ٹکٹس کی بکنگ سے لے کر بلوں کی ادائیگی تک یا پھر سرکاری اسکیمات جیسے پنشن کے حصول اور صداقتنامہ حیات کی اجرائی تک کے کام ڈیجیٹل ہو رہے ہیں۔ لوگ با اختیار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ کسی کو دکھے یا نہ دکھے ۔ پر دیش بدل رہا ہے ‘‘ ۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل انڈیا تعلیم ‘ روزگار ‘ تجارت اور لوگوں کو با اختیار بنانے کی مہم ہے ۔ اس کے نتیجہ میں اصلاحات ‘ کارکردگی اور تبدیلی کے عزائم کو پورا کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مزید ڈیجیٹل ادائیگیوں کے تعلق سے جو مہم ہے وہ در اصل درمیانی آدمیوں کو ختم کرنے کی کوشش ہے ۔ مودی نے RuPay کے استعمال کو حب الوطنی سے بھی جوڑ دیا ۔ انہوں نے ہر کوئی سرحد پر جا کر نہیں لڑ سکتا ۔ RuPay کا استعمال بھی ایک طرح کی قومی خدمت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چار سال میں RuPay کے 50 کروڑ کارڈز جاری کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کارڈ کے ذریعہ ڈیجیٹل ادائیگیوں میں انقلابی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں ۔ یہ کارڈ نہ صرف ہندوستان میں بلکہ بیرونی ممالک میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اپنے حالیہ دورہ سنگاپور کے موقع پر خود انہوں نے بھی اسی کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے کچھ خریداری کی تھی ۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل انڈیا وہ مہم ہے جو عوام کو خدمات راست طور پر فراہم کرنے کے مقصد سے شروع کی گئی ہے ۔