نیوکلیر معاہدہ سے دستبردار ہونے پر ٹرمپ کی دھمکی کے پیش نظر مذاکرات اہم
واشنگٹن ۔ 21 اپریل ۔(سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ٹرمپ اور فرانسیسی صدر ایمانویل میکرن آئندہ ہفتہ ہونے والی ملاقات میں ایران اور شام کے مسائل پر تبادلۂ خیال کریں گے ۔ میکرن آئندہ پیر سے تین دن کیلئے امریکی دورہ پر روانہ ہوں گے جہاں پر ٹرمپ اور خاتون اول میلانیہ ٹرمپ سرخ قالین استعمال کریں گے ۔ توقع ہے کہ دونوں قائدین کی ملاقات میں 2015 ء میں ایران کے ساتھ ہوئے تاریخی نیوکلیر معاہدہ جس میں دوسرے ممالک نے بھی دستخط کئے تھے زیربحث رہے گا ۔ٹرمپ نے ایران کو انتباہ دیتے ہوئے کہاکہ ممکن ہے کہ امریکہ اس معاہدہ سے دستبردار ہوجائے جس کو سابق امریکی صدر اوباما نے تسلیم کیا تھا اور ٹرمپ نے اس کی منسوخی کیلئے 2 مئی کی تاریخ مقرر کی ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے حتمی کوئی فیصلہ تو نہیں کیا ہے لیکن فرانسیسی صدر کے ساتھ اس مسئلہ پر بحث ہوگی ۔ ابھی یہ کہنا مشکل ہوگا کہ دونوں قائدین جیسا کہ ٹرمپ نے جنوری میں کہا تھا کہ درمیان مئی تک اس معاہدہ کو کالعدم قرار دے سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق آٹھ یوروپی ممالک خاص طورپر E3 ممالک ایران کے بیلسٹک میزائیل پروگرام پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور توقع ظاہر کی کہ درمیان مئی تک اس مسئلہ کا کوئی حل تلاش کرلیا جائے گا ۔ دونوں قائدین دنیا میں دہشت گردی اور شام کی جانب سے 7 اپریل کو کیمیائی ہتھیار کے استعمال پر بحث ہوگی اور ساتھ میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی غوروخوض ہوگا۔ذرائع نے مزید کہا کہ علاقہ میں ایران کے بڑھتے اثر و رسوخ ، فرانس کی ناٹو قیادت اور بین الاقوامی دہشت گردی بشمول ساحل ایسے موضوعات ہیں جس پر دونوں ممالک کا تبادلہ خیال ہوگا ۔ اس دورہ میں 23 اپریل کو فرانسیسی صدر میکرن ماونٹ وزنن کا بھی دورہ کریں گے جہاں پر ان کیلئے عشائیہ کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نہ صرف استحکام ملے گا بلکہ مستقبل میں دونوں ممالک کی دوستی کو بڑھاوا اور مضبوطی حاصل ہوگی ۔ ذرائع کے مطابق ٹرمپ اس دورہ کیلئے نہایت ہی پرجوش ہیں اور اُن کے ذہن میں سابق میں جولائی 2017 ء کے دور کی یادیں تازہ ہیں جبکہ وہ فرانس کے یوم انقلاب Bastille Day کے موقع پر ایفل ٹاور میں ایک پرتکلف عشائیہ میں شرکت کی تھی ۔ اپریل 24 کو میکرون اور ٹرمپ کے درمیان اول آفس وائیٹ ہاؤز میں دوبدو ملاقات ہوگی اور اُس کے اور دونوں ممالک کے مندوبین کی میٹنگ ہوگی۔ اس دو طرفہ میٹنگ میں امریکی نائب صدر ، قائم مقام سکریٹری آف اسٹیٹ ، ٹریژری سکریٹری ، دفاعی سکریٹری ، کامرس سکریٹری ، وائیٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف اور قومی سلامتی مشیر شامل رہیں گے ۔ اس دورہ کے تین مقاصد ہیں پہلا دوستی ، دوسرا تجارتی شراکت داری اور تیسرا فرانس امریکہ کا مضبوط اور قابل بھروسہ ساتھی ۔ فرانس سارے یوروپ میں امریکہ کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ملک ہے جہاں پر ہر روز اوسطاً ایک بلین امریکی ڈالرز کاتجارتی لین دین ہوتا ہے ۔