حیدرآباد /20 مئی (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی اور ٹی آر ایس قائد ڈاکٹر کے کیشو راؤ کی ملاقات سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے، تاہم ذرائع نے بتایا کہ دونوں کے درمیان ٹی آر ایس کی کونسل کے لئے پانچویں نشست پر مقابلہ، طلبہ کا احتجاج اور دیگر سیاسی امور پر گفتگو ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر کے کیشو راؤ کا کانگریس سے 50 سالہ رشتہ ہے۔ تلنگانہ تحریک کے دوران انھوں نے کانگریس قیادت پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی تھی اور وہ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کے کٹر حامیوں میں شمار ہوتے ہیں،
جب کہ کے سی آر نے انھیں ٹی آر ایس کا سکریٹری جنرل اور راجیہ سبھا کا رکن بنایا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر اکثر اہم فیصلے ڈاکٹر کیشوراؤ سے تبادلہ خیال کے بعد ہی کرتے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ کے جانا ریڈی آج اچانک ڈاکٹر کیشور راؤ کی قیامگاہ پہنچ گئے اور دونوں کے درمیان کافی دیر تک گفتگو ہوئی۔ بعد ازاں کے جانا ریڈی نے کہا کہ ڈاکٹر کیشو راؤ سے ملاقات کی کوئی سیاسی اہمیت نہیں ہے، دونوں کے درمیان صرف خیر سگالی بات چیت ہوئی ہے۔ اسمبلی میں عددی طاقت کے لحاظ سے ایم ایل اے کوٹہ میں کونسل کی ایک نشست پر کانگریس کی کامیابی یقینی ہے، جب کہ تلگودیشم اور بی جے پی اتحاد کی صورت میں تلگودیشم کا امیدوار بھی کامیاب ہوسکتا ہے،
لیکن چیف منسٹر نے تلنگانہ کونسل میں تلگودیشم کے وجود کو مٹانے کے لئے ٹی آر ایس کے پانچویں امیدوار کو انتخابی میدان میں اتارنے کا اشارہ دیا ہے، جس سے سیاسی حالت تبدیل ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ کے جانا ریڈی نے ایم ایل اے کوٹہ کی 6 نشستوں کے انتخابات کو بلامقابلہ کامیاب بنانے ڈاکٹر کیشو راؤ سے اپیل کی ہے، جس سے ٹی آر ایس کو چار نشستوں پر اور کانگریس و تلگودیشم کو ایک ایک نشست کامیابی حاصل ہوگی۔ اس دوران جانا ریڈی نے کیشو راؤ کو بتایا کہ تلنگانہ تحریک میں عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں، لہذا ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہئے کہ جس سے طلبہ کے جذبات مجروح ہوں۔ انھوں نے عثمانیہ یونیورسٹی کی اراضی پر غریب عوام کے لئے مکانات کی تعمیر کے فیصلہ پر نظرثانی کا مشورہ دیا۔ بعد ازاں کیشو راؤ نے دونوں مسئلہ پر چیف منسٹر تلنگانہ سے بات چیت کرنے کا تیقن دیا۔