چین کے صوبہ ژنجیانگ کے دارالحکومت میں عوامی مقامات پر برقعہ پہننے پر امتناع

بیجنگ۔ 11 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ایغور مسلمانوں کی غالب آبادی والے چینی صوبہ ژنجیانگ میں عوامی مقامات پر برقعہ پہننے پر پابندی عائد کرنے کے سلسلے میں آج رائے دہی منعقد کی گئی۔ ذرائع ابلاغ کے بموجب چین کو بے چینی کا سامنا ہے۔ اس کے سخت اقدامات پر ناقدین متعصبانہ اقدامات کا الزام عائد کررہے ہیں۔ پورے شورش زدہ مغربی علاقہ میں حالیہ مہینوں میں نسلی جھڑپوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ بیجنگ نے عہد کیا ہے کہ تشدد کو ’’سختی سے کچل‘‘ دیا جائے گا۔ مقامی ارکان مقننہ نے کل ارومقی میں کہا تھا کہ عوامی مقامات پر ارومقی میں برقعہ پہننے پر امتناع عائد کرنے کے قواعد پر غور کرکے انہیں منظور کیا جائے گا۔ یہ اقدامات علاقائی قانون سازی کے ذریعہ نافذ کئے جائیں گے۔ چین قبل ازیں خواتین کے چہرے کے نقاب کی حوصلہ شکنی کیلئے بھی مہم چلا چکا ہے اور اکثر برقعہ پہننے کے خلاف بھی پروپگنڈہ شائع کیا جاتا ہے۔ ایغور غالب آبادی والے شہر کاشغر میں خواتین کو برقعہ نہ پہننے کی برسرعام ترغیب کو ’’جارحانہ اقدام‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ ایک اور شہر کرامے میں حجاب، نقاب، برقعہ یا ہلال اور ستارے کے ساتھ اسلامی لباس استعمال کرنے پر پہلے ہی پابندی عائد کی جاچکی ہے۔ انسانی حقوق گروپس کا کہنا ہے کہ ایغور نسل کے افراد کے ساتھ پولیس کے سخت سلوک اور ان کی بعض مذہبی رسومات کے خلاف مہم چلانے سے پرتشدد ردعمل کا اندیشہ ہے جبکہ حکومت چین مہلک واقعات کو ’’علیحدگی پسندی‘‘ اور ’’دہشت پسندی‘‘ قرار دیتا ہے۔