اسلام آباد 21 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) صدر چین ژی جن پنگ نے آج پاکستان کی ستائش کی کیونکہ اُس نے چین کی انسداد دہشت گردی مہم کی تائید کی ہے خاص طور پر علیحدگی پسندوں کے خلاف چین کی کارروائی کو جو مسلم غالب آبادی صوبہ ژنجیانگ میں جاری ہے، پاکستان کی بھرپور تائید حاصل ہے۔ پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی پر قابو پایا جائے۔ ژی جن پنگ پاکستان کے دو روزہ تاریخی دورہ پر ہیں، چین اور پاکستان دونوں کو مشترکہ صیانتی اندیشے درپیش ہیں۔ صدر چین نے پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جسے ملک گیر سطح پر راست نشر کیا گیا، کہاکہ برسوں سے پاکستان ہر قسم کی مشکلات پر قابو پاتا آرہا ہے اور اس نے چین کے صیانت اور استحکام میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان اور چین کی مشترکہ سرحد پر برسوں سے امن قائم ہے جس کو ہم کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔ اُنھوں نے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کوشش کی بھی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صف اول میں رہا ہے اور اِس نے اِس مقصد کے لئے زبردست قربانیاں دی ہیں۔ صدر چین کے یہ تبصرے اُس وقت منظر عام پر آئے جبکہ پاکستان نے عہد کیا ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے میں تعاون میں اضافہ کیا جائے گا۔ وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے پارلیمنٹ میں کہاکہ ہم دہشت گردی کی لعنت کے صفائے کے لئے مشترکہ شدید کوششیں کریں گے تاکہ اپنے مقاصد حاصل کرسکیں۔ اُنھوں نے کہاکہ ہمارے دفاعی تعلقات مستحکم ہیں اور انھیں آئندہ برسوں میں مزید مستحکم بنانا ہے۔ ژی جن پنگ برسر اقتدار کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری بھی ہیں۔ اُنھوں نے پاکستان کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ اُس نے سب سے پہلے پیپلز ریپبلک آف چائنا کے قیام کی تائید کی تھی اور ایسے وقت چین کا ساتھ دیا تھا جبکہ یہ کمیونسٹ ملک دنیا بھر میں الگ تھلگ ہوگیا تھا۔ اُنھوں نے پاکستان کو چین کا قابل اعتماد دوست قرار دیا اور اعلان کیاکہ رقم کی قلت سے متاثر ملک کی معاشی ترقی کے لئے چین کی جانب سے ہرممکن مدد دی جائے گی۔
صدر چین کو اعلیٰ ترین پاکستانی سیویلین ایوارڈ ’نشان پاکستان‘
اسلام آباد ۔ 21 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان نے آج اپنا اعلیٰ ترین سیویلین ایوارڈ نشان پاکستان سے صدر چین ژی جن پنگ کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنے کی کامیاب کوششوں کے اعتراف کے طور پر سرفراز کیا۔ قصرصدارت میں ایوارڈ تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا جہاں صدر ممنون حسین نے 61 سالہ ژی جن پنگ کو ایوارڈ عطا کیا۔ اس تقریب میں وزیراعظم نواز شریف، وفاقی وزراء، قومی اسمبلی کے ارکان اور سینیٹ، سرویسیس سربراہ (ملک کی تینوں افواج کے سربراہ) اور چینی وفد نے بھی شرکت کی۔ قبل ازیں ژی جن پنگ کا قصرصدارت میں زبردست خیرمقدم کیا گیا جہاں وہ روایتی طور پر گھوڑوں سے کھینچی جانے والی ایک بگھی کے ذریعہ پہنچے۔ ژی جن پنگ کی حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری بھی ہیں۔ بعدازاں انہوں نے ممنون حسین کے ساتھ دو رخی تعلقات کے موضوع پر طویل گفتگو بھی کی جس کے بعد صدر چین کے اعزاز میں ایک پرتکلف ظہرانہ بھی ترتیب دیاگیا تھا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر ضروری ہیکہ ژی جن پنگ کل ہی پاکستان کے پہلے دورہ پر یہاں پہنچے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ مجموعی طور پر 46 بلین ڈالرس کے معاہدہ پر کاریڈو پراجکٹ کیلئے دستخط کئے ہیں۔