چین پر امریکہ کا دوہرا الزام

٭ ’’امریکی فنڈس‘‘ سے خود کی تعمیر اور امریکی انتخابات میں مداخلت
٭ ہم نے کبھی دوسرے ملک کے داخلی معاملات میں
دخل اندازی نہیں کی: چینی وزارت خارجہ

واشنگٹن۔ 19 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے آج چین کے خلاف لب کشائی کرتے ہوئے الزام لگایا کہ چین، امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں کسانوں اور صنعتی ورکرس کے سہارے مداخلت کرنے کی کوشش کررہا ہے، البتہ انہوں نے اس معاملے میں کوئی ثبوت پیش نہیں کئے اور نہ ہی یہ وضاحت کی کہ چین ماہ نومبر میں منعقد شدنی وسط مدتی انتخابات میں مداخلت کرنے کی کوشش کررہا ہے یا کسی اور انتخابات۔ امریکی صدر سے ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا کہ چین نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ امریکی کسانوں اور صنعتی ورکرس کو نشانہ بناتے ہوئے امریکی انتخابات میں مداخلت کرنے کی پوری کوشش کررہا ہے۔ ٹرمپ نے چین کی مصنوعات پر زائد ٹیکس عائد کرنے کی بھی دھمکی دی اور کہا کہ اگر امریکی کسانوں اور صنعتی ورکرس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو امریکہ، چین کے خلاف انتہائی تیزی کے معاشی ردعمل کا اظہار کرے گا۔ یاد رہے کہ صرف ایک روز قبل چین نے ٹرمپ کے زائد ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی پر جوابی کارروائی کرنے کا اشارہ دیا تھا۔ ٹرمپ نے چینی مصنوعات پر 200 بلین ڈالرس کے زائد ٹیکس عائد کرنے کی بات کہی تھی۔ 24 ستمبر سے نئے ٹیکس کی شرح 10% ہوگی جبکہ یکم جنوری 2019ء سے یہ شرح بڑھ کر 25% ہوجائے گی۔ چین نے بھی 60 بلین امریکی ڈالرس کی قدر والے امریکی درآمدی اشیاء پر ٹیکس عائد کرتے ہوئے امریکہ کو کرارہ جواب دیا تھا جس سے زائد از 5,000 مصنوعات کی قیمتوں پر اس کا راست اثر مرتب ہوا تھا جن میں کافی، شہد اور صنعتی کیمیکلس قابل ذکر ہیں۔ ٹرمپ کے اس الزام پر کہ چین، امریکی انتخابات میں مداخلت کررہا ہے، چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے کہا کہ کوئی بھی شخص (ملک) جو چین کے سفارتی طرز عمل سے واقف ہے۔ وہ یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ چین کبھی بھی دوسرے ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے چین پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ چین نے امریکہ سے سالانہ 500 بلین ڈالرس اینٹھتے ہوئے خود کی (چین) تعمیر میں صرف کئے۔ ٹرمپ نے چینی مصنوعات پر زائد ٹیکس عائد کرنے کے اپنے فیصلے کو منصفانہ قرار دیا اور کہا کہ اگر آپ (عوام) ہماری مارکیٹس کی طرح دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ یہ راکٹ کی رفتار سے اوپر جارہی ہیں لیکن چین کی مارکیٹس میں 32% نیچے جارہی ہیں حالانکہ ہم نہیں چاہتے کہ چین کی مارکیٹس انحطاط پذیر ہوں لیکن صرف تین ماہ میں چین کی مارکیٹس انحطاط کا شکار ہوئی ہیں کیونکہ ہم انہیں ایسا کرنے نہیں دیں گے جو انہوں نے ہمارے ساتھ (امریکہ) کیا۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ چین نے امریکی فنڈس کے ذریعہ خود کو مستحکم کیا۔