بیجنگ ۔ 16 جون (سیاست ڈاٹ کام) چین نے آج 13 افراد کو پھانسی دیدی جو بتایا جاتا ہیکہ شورش زدہ صوبہ سنکیانگ سے تعلق رکھنے والے کٹر اسلامی ’’دہشت گرد‘‘ تھے، جبکہ دو دیگر مشتبہ دہشت گرد چاقوزنی کی کوشش کے دوران ہلاک ہوگئے۔ سرکاری ژنہوا نیوز ایجنسی نے اطلاع دی کہ جن 13 افراد کو سزائے موت پر عمل کیا گیا وہ 7 کیسوں میں ملوث پائے گئے تھے۔ سنکیانگ میں یہ سزائے موت کی سب سے زیادہ تعداد بتائی جاتی ہے، جہاں متعدد عسکری حملے پیش آچکے ہیں جبکہ مقامی ایغور مسلمانوں میں علحدہ مملکت کے مطالبہ کے ساتھ بے چینی پائی جاتی ہے۔ مقامی مسلمانوں کو بقیہ چین سے تعلق رکھنے والے ہان نسل کے لوگوں کی وہاں بڑھتی نوآبادیات پر سخت تشویش ہے۔ چین جس نے ملک گیر سطح پر سیکوریٹی میں شدت پیدا کر رکھی ہے، سنکیانگ کی جدوجہد آزادی کیلئے مشرقی ترکستان اسلامک تحریک کو موردالزام ٹھہراتا ہے جو القاعدہ کی تائید والا گروپ ہے، جس کا مقصد سنکیانگ کی آزادی ہے۔ چین کا ادعا ہیکہ یہی گروپ سنکیانگ اور شمال مشرقی صوبہ کے اطراف حملوں کا ذمہ دار ہے۔ دریں اثناء آج مسلح پٹرول فورسیس نے چاقوزنی کی ممکنہ وارداتوں کو ناکام بناتے ہوئے دو حملہ آوروں کو ہلاک کردیا۔