سلائی مشینوں کی تقسیم میں کرپشن، اقامتی اسکولوں میں بی سی طلبہ کے داخلوں پر اعتراض،علماء کے ذریعہ قاضیوں کا تقرر کیا جائے
حیدرآباد۔/21جولائی، ( سیاست نیوز) اسمبلی کی اقلیتی بہبود کمیٹی نے اسمبلی میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے کئے گئے وعدوں پر عمل آوری کی تفصیلات طلب کی ہے۔ اسمبلی کمیٹی کا اجلاس آج صدر نشین عامر شکیل رکن اسمبلی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان محمد سلیم، ڈی ونئے بھاسکر، ایل وی اسٹیفن سن، فاروق حسین، اکبر اویسی، امین الحسن جعفری کے علاوہ سکریٹری اقلیتی بہبود دانا کشور، ڈائرکٹر اقلیتی بہبود شاہنواز قاسم، سکریٹری اقامتی اسکول سوسائٹی بی شفیع اللہ، سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور، منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن ایم اے وحید، منیجنگ ڈائرکٹر کرسچبن فینانس کارپوریشن وکٹر کے علاوہ دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔اجلاس میں مختلف اداروں کی کارکردگی اور اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لیتے ہوئے چیف منسٹر کے وعدوں پر عمل آوری میں ناکامی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ کمیٹی کے ارکان نے اقلیتی بہبود عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اسمبلی میں اقلیتوں اور اردو کے بارے میں کئے گئے چیف منسٹر کے اعلانات پر عمل آوری کی رپورٹ پیش کریں۔ ارکان نے کہا کہ عہدیداروں کے پاس چیف منسٹر کے وعدوں اور اعلانات کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور عمل آوری نہیں کے برابر ہے۔ اردو میں سرکاری محکمہ جات کے امتحانات کے انعقاد کا وعدہ آج تک پورا نہیں کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے اقلیتوں کے ساتھ صرف وعدوں کا معاملہ ہے۔ ارکان نے اردو کے دوسری سرکاری زبان کے موقف پر عمل آوری کے سلسلہ میں سرکاری محکمہ جات پر تساہل کا الزام عائد کیا اورکہا کہ اس سلسلہ میں بھی تفصیلی رپورٹ کمیٹی کو پیش کی جائے۔صدرنشین عامر شکیل نے اقلیتی فینانس کارپوریشن کی کارکردگی پر تنقید کی اور کہا کہ اقلیتی اداروں میں سب سے زیادہ غیر کارکرد ادارہ فینانس کارپوریشن ہے۔ انہوں نے کارپوریشن کی سلائی مشین تقسیم اسکیم میں بے قاعدگیوں کا الزام عائد کیا اور کہا کہ مشینوں کی تقسیم میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی اطلاعات ملی ہیں۔ وہ اس سلسلہ میں ایف آئی آر درج کرائیں گے اور جاری بے قاعدگیوں کو چیف منسٹر کے علم میں لائیں گے۔ منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن ایم اے وحید نے یہ کہتے ہوئے وضاحت کی کوشش کی کہ کرپشن میں کارپوریشن کے ملازمین ملوث نہیں ہیں۔ جس پر صدرنشین نے کہاکہ وہ تمام تفصیلات جانتے ہیں۔اقامتی اسکولوں کے بارے میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ 204 اسکولوں میں طلبہ کی تعداد ایک لاکھ 30 ہزار ہے۔ پبلک سرویس کمیشن سے 2268 اساتذہ کی جائیدادوں پر تقررات کئے جارہے ہیں ان میں 1323 ٹیچرس خدمات جوائن کرچکے ہیں۔ ایم ایس ڈی پی اسکیم کے تحت 7 اقامتی اسکولوں کی منظوری دی گئی۔ سوسائٹی کیلئے 735 کروڑ کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ ارکان نے آؤٹ سورسنگ کی بنیاد پر کئے جارہے تقررات کی تفصیلات طلب کی اور کہا کہ تقررات کے سلسلہ میں مکمل شفافیت ہونی چاہیئے۔ سوسائٹی کے سکریٹری شفیع اللہ نے بتایا کہ 1321 ریگولر اسٹاف میں 772 جائیدادیں آؤٹ سورسنگ کی ہیں۔ 65 اسکولوں کی تعمیر کیلئے اراضی کی نشاندہی مکمل ہوچکی ہے۔ کمیٹی نے ضلع واری سطح پر اسکولوں، طلبہ اور اسٹاف کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت دی۔ کمیٹی نے اقلیتی اقامتی اسکولوں میں 25 فیصد غیر اقلیتی طلبہ کے داخلوں پر اعتراض کیا اور کہا کہ ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی کیلئے علحدہ اقامتی اسکول موجود ہیں لیکن وہاں اقلیتوں کیلئے 25 فیصد نشستیں مختص نہیں، پھر کیوں اقلیتی اسکولوں میں غیر اقلیتی طلبہ کو داخلے دیئے جائیں۔ سوسائٹی کا 25 فیصد بجٹ غیر اقلیتی طلبہ پر خرچ ہورہا ہے اس سلسلہ میں حکومت سے نمائندگی کی عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ۔ اسکولوں میں 16000 طلبہ کا تعلق غیر اقلیتی طلبہ سے ہے۔ حکومت نے اقلیتی اسکولوں میں 2000 مخلوعہ نشستوں پر بی سی طلبہ کے داخلوں کی ہدایت دی ہے۔ ایوان کی کمیٹی نے اس فیصلہ پر بھی سخت اعتراض جتایا۔ عامر شکیل نے اسکولوں میں غیر معیاری کھانے کی سربراہی کی شکایت کی اور عہدیداروں کو اس جانب توجہ دینے کی ہدایت دی۔ اسکولوں میں دینی تعلیم کے ساتھ اخلاقیات کی تعلیم کیلئے اساتذہ کا انتظام کرنے کی ہدایت دی گئی۔ ارکان نے سیاسی وابستگی سے بالا تر ہوکر ریاست میں اردو کے بحیثیت دوسری سرکاری زبان عمل آوری میں ناکامی پر ناراضگی جتائی۔ عہدیداروں نے بتایا کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی زیر التواء درخواستوں میں ایک لاکھ تک سبسیڈی والی درخواستوں کیلئے180 کروڑ روپیوں کی ضرورت ہے۔ ان درخواستوں کی جلد یکسوئی کی جائے گی۔ حج ہاوز سے متصل زیر تعمیر عمارت میں اقلیتی بہبود کے دفاتر منتقل کرنے کا چیف منسٹر کا وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا۔ ارکان نے کہا کہ حج کمیٹی کو جاریہ سال بجٹ سے ایک روپیہ بھی جاری نہیں ہوا ہے جبکہ حج کیمپ کیلئے صرف ایک ہفتہ باقی ہے۔ ارکان نے قاضیوں کیلئے حدود کے تعین اور تقررات کے سلسلہ میں علماء کا بورڈ تشکیل دینے کی سفارش کی تاکہ اسلامی تعلیمات سے واقف افراد کا بحیثیت قاضی تقرر ہوسکے۔ ارکان نے وقف بورڈ میں غیر مجاز تقررات کے سلسلہ میں وضاحت طلب کی۔ اقلیتی اداروں میں کیڈر اسسٹرینتھ اور سرویس رول مدون کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ سیول سرویسس کی ٹریننگ کیلئے امیدواروں کی آمدنی کی حد 2 لاکھ سے بڑھاکر 5 لاکھ کرنے کی کمیٹی نے سفارش کی ہے۔ ایس سی اور بی سی کی طرز پر اقلیتوں کیلئے اقامتی سہولت کے ساتھ اسٹڈی سنٹر قائم کیا جائے۔