چیف منسٹر کے سی آر پر سرکاری رہائش گاہ کے سیاسی استعمال کا الزام

الیکشن کمیشن سے کانگریس کی شکایت، قائدین کو انحراف پر اکسانے کیخلاف کارروائی کی جائے: جی نرنجن

حیدرآباد۔ 14 مارچ (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے الیکشن کمیشن سے شکایت کی ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو اپنی سرکاری قیام گاہ کا استعمال کرتے ہوئے انتخابی قواعد کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ پردیش کانگریس الیکشن کمیشن کوآرڈینیشن کمیٹی کے کنوینر جی نرنجن نے اس سلسلے میں چیف الیکٹورل آفیسر رجت کمار کو مکتوب روانہ کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر اپنی سرکاری رہائش گاہ اور دفتر پرگتی بھون کو سیاسی اغراض کے لیے استعمال کرتے ہوئے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ کمیشن کو اس سلسلہ میں اخبارات کے تراشے حوالے کرتے ہوئے ضروری کارروائی کی اپیل کی گئی۔ نرنجن نے کہا کہ چیف منسٹر انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے ذریعہ کانگریس ارکان اسمبلی پر اثرانداز ہورہے ہیں تاکہ وہ ٹی آر ایس میں شامل ہوجائیں۔ غیر جمہوری سرگرمیوں اور ارکان کے انحراف کے لیے سرکاری رہائش گاہ کا استعمال کیا جارہا ہے۔ قانون ساز کونسل کے انتخابات کے لیے شیڈول کی اجرائی کے ساتھ ہی پرگتی بھون میں گیم پلان تیار کیا گیا تاکہ کانگریس ارکان کو انحراف پر مجبور کیا جائے۔ ارکان اسمبلی اے سکو، آر کانتا رائو، سی ایچ لنگیا، شریمتی بی ہری پریا نائک ابھی تک پارٹی سے منحرف ہوچکے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے 10 مارچ کو لوک سبھا کے لیے شیڈول جاری کیا جس کے ساتھ ہی انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہوگیا۔ چیف منسٹر نے سرکاری رہائش گاہ کا سیاسی اغراض کے لیے استعمال کرتے ہوئے پارٹی کے دیگر ارکان اسمبلی کو ٹی آر ایس میں شمولیت کی ترغیب دے رہے ہیں۔ کل 13 مارچ کو سبیتا اندرا ریڈی اور ان کے فرزندان کو چیف منسٹر نے اپنی سرکاری رہائش گاہ پرگتی بھون مدعو کیا اور دو گھنٹے بات چیت کرتے ہوئے پارٹی میں شمولیت کے لیے دبائو ڈالا۔ ملاقات کے فوری بعد سبیتا اندرا ریڈی کے فرزند نے ٹی آر ایس پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے اور اس کے لیے آئندہ چند دنوں میں چیوڑلہ میں جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کیا۔ نرنجن نے کہا کہ چیف منسٹر نے ایسی شخصیت کو انحراف کے لیے مجبور کردیا جنہوں نے ایک دن قبل ہی راہول گاندھی کے جلسہ عام میں خیرمقدمی تقریر کی تھی۔