حیدرآباد ۔ 12 ۔ فروری (سیاست نیوز) چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کے استعفے کی اطلاعات کے دوران چیف منسٹر کے دفتر پر عوامی نمائندوں کا ہجوم امڈ پڑا جو لمحہ آخر میں اپنی متعلقہ فائلوں کی یکسوئی کے بارے میں فکر مند تھے۔ ریاستی قانون ساز اسمبلی اور پھر چیف منسٹر کیمپ آفس میں آج مختلف پارٹیوں کے ارکان اسمبلی و کونسل کے علاوہ وزراء کی کثیر تعداد دیکھی گئی جو اپنے متعلقہ انتخابی حلقوں اور دیگر مسائل کی یکسوئی کے سلسلہ میں نمائندگی کرنے پہنچے تھے۔ کرن کمار ریڈی کو تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی مخالف تلنگانہ قرار دیتے ہیں لیکن آج اپنی متعلقہ فائلوں کی یکسوئی کے سلسلہ میں انہیں بھی قطار کی شکل میں چیف منسٹر کے چیمبر کے باہر دیکھا گیا۔ ہر عوامی نمائندہ کی یہی خواہش ہے کہ استعفی سے قبل چیف منسٹر ان کی فائل پر دستخط کردیں۔ عوامی نمائندوں کو چیف منسٹر آفس کے عہدیداروں سے اپنی فائلوں کے موقف کے بارے میں استفسار کرتے دیکھا گیا۔ بعض ارکان اسبملی تو ان عہدیداروں سے اس لئے الجھ گئے کہ ان کی فائل طویل عرصہ سے زیر التواء ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ ضلع رنگا ریڈی سے تعلق رکھنے والے تلگو دیشم رکن اسمبلی مہیندر ریڈی چیف منسٹر دفتر کے بعض عہدیداروں سے الجھ پڑے اور انکی فائل کی فوری یکسوئی کا مطالبہ کیا۔ بعض ارکان اسمبلی نے کہا کہ وہ راجیو آروگیہ شری اور سی ایم ریلیف فنڈ سے متعلق مسائل کی یکسوئی کیلئے آئے ہیں۔ اپنے اپنے حلقہ جات میں مختلف پراجکٹس اور ترقیاتی کاموں کی منظوری کے سلسلہ میں چیف منسٹر سے نمائندگی کے منتظر عوامی نمائندوں سے جب صحافیوں نے مسائل کے بارے میں تفصیلات طلب کی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ عوامی مسائل کے سلسلہ میں چیف منسٹر سے رجوع ہوئے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ کئی عوامی نمائندے اپنے شخصی مسائل جیسے کالجس کی منظوری اور دیگر امور کے سلسلہ میں چیف منسٹر سے رجوع ہوئے تھے۔ چیف منسٹر کی جانب سے کئے گئے ایک ریمارک کے بعد ان کے دفتر کے روبرو عوامی نمائندوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کا دفتر گزشتہ ایک ہفتہ سے فائلوں کی عاجلانہ یکسوئی کے کام میں مصروف ہے۔ مختلف وزراء اپنے اپنے اضلاع میں ترقیاتی پراجکٹس کی منظوری اور خاص طور پر ایسے کاموں کی منظوری کی کوشش کر رہے ہیں جن سے آئندہ عام انتخابات میں انہیں فائدہ پہنچ سکے۔ کرن کمار ریڈی نے گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران عوامی نمائندوں اور وزراء کے اصرار پر کئی ایک اہم فائلوں کی منظوری دیدی ہے۔