چیف منسٹر کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کرنے والے ملازمین گرفتار

سرینگر ۔ 19 اگست (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر عمر عبداللہ کی رہائش گاہ کی طرف احتجاجی مارچ کے ساتھ آگے بڑھنے والے جموں و کشمیر کے ہزاروں سرکاری ملازمین کو گرفتار کرلیا گیا ہے جوکہ یومیہ اجرت اور عارضی طور پر ملازمت انجام دینے کے برعکس ملازمتوں کو باقاعدہ بنانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ذرائع کے بموجب پبلک ہیلت انجینئرنگ (پی ایچ ای) شعبہ کے ملازمین سخت صیانتی علاقہ گپکار میں چیف منسٹر کی رہائش گاہ کی سمت احتجاج کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ ملازمین کا احتجاجی قافلہ جب سنور پہنچا تو پولیس نے انہیں منتشر ہونے کی ہدایت دی لیکن احتجاجی ملازمین نے پولیس کے حکم کی تعمیل نہیں کی جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 15 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔ یہ احتجاج کشمیر پی ایچ ای جوائنٹ ایمپلائز اسوسی ایشن کی جانب سے شروع کیا گیا ہے جسے کئی اور تنظیموں کی حمایت حاصل ہے جبکہ احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ ہیکہ یومیہ اجرت پر خدمات انجام دینے والے ملازمین کو مستقل موقف دیا جائے اور ساتھ ہی تنخواہوں کے بقایہ جات ادا کئے جائیں۔ ملازمین گذشتہ کئی ماہ سے مسلسل احتجاج کررہے ہیں اور اپنے مطالبات کی یکسوئی کیلئے ارباب مجاز پر زور ڈال رہے ہیں۔