حیدرآباد 6 جنوری ( این ایس ایس ) ریاستی وزیر پنچایت راج و سینئر تلنگانہ کانگریس لیڈر مسٹر کے جانا ریڈی نے آج یہ واضح کردیا کہ وہ چیف منسٹر کے عہدہ کی دوڑ میں شامل نہیں ہیں۔ چونکہ ریاست میں سیما آندھرا قائدین کی مخالفتوں کے باوجود تلنگفانہ ریاست کا قیام تقریبا یقینی نظر آتا ہے ایسے میں کئی دوسرے قائدین چیف منسٹر کے عہدہ کیلئے دوڑ دھوپ بھی شروع کرچکے ہیں۔ جانا ریڈی نے تاہم کہا کہ انہیں اس عہدہ کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ اسمبلی میں میڈیا سے انہوں نے کہا کہ تلنگانہ قائدین کی اصل توجہ علیحدہ ریاست کا قیام ہے جو ماہ فبروری میں حقیقت بن جائیگا ۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ تقسیم کے بعد بھی تلنگانہ ریاست میں کانگریس کو ہی اقتدار حاصل ہوگا۔
ایک سوال کے جواب میں جانا ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے وعدہ کو پورا کرنے پر تلنگانہ کانگریس قائدین سارے علاقہ میں صدر کانگریس سونیا گاندھی سے اظہار تشکر کے جلسے منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کرچکے تھے تاہم انہوں نے کہا کہ چونکہ اسمبلی اجلاس شروع ہوچکا تھا اس لئے وہ ایسے جلسے منعقد نہیں کرسکے ہیں۔ انہوں نے ان افواہوں کی مذمت کی کہ چیف منسٹر کرن کمار ریڈی اور وزیر سیول سپلائز ڈی سریدھر بابو کے مابین کسی طرح کی میچ فکسنگ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے ۔ مسٹر جانا ریڈی نے مطالبہ کیا کہ تلنگانہ بل پر ریاستی اسمبلی میں مباحث ہونے چاہئیں اور سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ اس بل پر اپنی رائے اور خیالت سے صدر جمہوریہ کو واقف کروادیں۔