چیف منسٹر کا جائزہ اجلاس ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی

ریاستی الیکشن کمشنر سے کانگریس کی شکایت، حکومت کو پابند کرنے کی اپیل
حیدرآباد ۔ 25۔ اپریل (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے اسٹیٹ الیکشن کمیشن سے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی شکایت کی ہے ۔ کنوینر الیکشن کمیشن کوآرڈنیشن کمیٹی جی نرنجن نے وی ناگی ریڈی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے کالیشورم پراجکٹ کے موٹرس کی کارکردگی کے آغاز پر چیف منسٹر کی جانب سے جائزہ اجلاس کی طلبی کو انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیا ۔انہوں نے انٹرمیڈیٹ امتحانات میں دھاندلیوں کے مسئلہ پر چیف منسٹر کی جانب سے طلب کردہ اجلاس پر بھی اعتراض کیا۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ انٹرمیڈیٹ امتحانات کے مسئلہ پر جائزہ اجلاس میں وزیر تعلیم جگدیشور ریڈی ، سکریٹری تعلیم جناردھن ریڈی ، سکریٹری بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اے اشوک اور حکومت کے مشیر راجیو شرما نے شرکت کی ۔ انہوں نے کہا کہ جس مقصد سے اجلاس طلب کیا گیا، کانگریس اس کے خلاف نہیں ہے لیکن انتخابات کے دوران اس طرح کا اجلاس ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے ۔ حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ اس سلسلہ میں ریاستی الیکشن کمیشن سے اجازت طلب کرتی اور اپنے فیصلوں سے کمیشن کو واقف کیا جاتا ۔ نرنجن نے کمشنر اسٹیٹ الیکشن کمیشن سے خواہش کی کہ وہ اس طرح کے اجلاسوں کے سلسلہ میں قبل از وقت اجازت حاصل کرنے کیلئے حکومت کو ہدایت دیں۔ پارلیمانی انتخابات کے دوران امیر پیٹ تا ہائی ٹیک سٹی میٹرو ریل کا گورنر نے افتتاح کیا تھا جبکہ چیف سکریٹری نے سنہرے تلنگانہ کی سمت پیش قدمی کے عنوان سے حکومت کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کی ۔ اب جبکہ ایم پی ٹی سی اور زیڈ پی ٹی سی کے انتخابات جاری ہیں، چیف منسٹر رائے دہندوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چیف منسٹر کے سکریٹری سمیتا سبھروال نے کالیشورم پراجکٹ کے موٹر کی کارکردگی کا آغاز کیا اور بڑے پیمانہ پر تشہیر کی گئی۔ چیف سکریٹری دوسرے پمپ کی کارکردگی کا آغاز کریں گے۔ ان اقدامات سے برسر اقتدار ٹی آر ایس کو پبلسٹی ملے گی۔ کانگریس نے الیکشن کمیشن سے خواہش کی کہ وہ حکومت کو اس طرح کے اقدامات سے باز رکھیں ۔ انتخابات کی تکمیل تک ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل آوری کی جائے۔