چیف منسٹر ریلیف فنڈ کے ہزاروں درخواستیں التواء کا شکار

کئی مریض مالی امداد کے منتظر، بااثر افراد سے ہی درخواستوں کی یکسوئی
حیدرآباد 24 مئی (سیاست نیوز) ریاست سے تعلق رکھنے والے غریب افراد جوکہ کارپوریٹ ہاسپٹلس میں علاج کرواتے ہیں اُنھیں چیف منسٹر ریلیف فنڈ کے ذریعہ امداد کی فراہمی معمول کا عمل ہے لیکن تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد سے یہ عمل تقریباً مفقود تصور کیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے دفتر میں فی الحال 5 ہزار سے زائد ایسی درخواستیں زیرالتواء ہیں جس میں مریض کے رشتہ داروں اور مریضوں نے تمام دستاویزی کارروائیوں کی تکمیل کے بعد چیف منسٹر ریلیف فنڈ کے حصول کے لئے درخواست داخل کر رکھی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تقریباً ہر ماہ ایک ہزار سے زائد افراد چیف منسٹر کے دفتر سے رجوع ہوتے ہیں اور چیف منسٹر ریلیف فنڈ سے مالی امداد کے لئے درخواست داخل کرتے ہیں جن میں اکثریت خانگی ہاسپٹلس میں علاج کروانے کے لئے مالی امداد طلب کی جاتی ہے۔ گزشتہ 6 ماہ کے دوران داخل کردہ زائداز 5 ہزار درخواستیں چیف منسٹرکے دفتر میں زیرالتواء ہیں اور کہا جارہا ہے کہ عہدیداروں اور ان درخواستوں کی یکسوئی کرنے والے عملہ کی عدم موجودگی کے سبب بھاری تعداد میں درخواستیں التواء کا شکار ہورہی ہیں۔ حکومت کی جانب سے چیف منسٹر ریلیف فنڈ کے ذریعہ علاج و معالجہ کے لئے 20 ہزار تا ایک لاکھ روپئے کی رقومات جاری کی جاتی ہیں اور خصوصی معاملات میں رقم میں کچھ اضافہ بھی کیا جاتا ہے۔ حالیہ عرصہ میں درخواست داخل کرنے والے غریب شہریوں کی درخواستوں کی عدم یکسوئی کے سبب اُن میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ چیف منسٹر ریلیف فنڈ کے ذریعہ سالانہ تقریباً 120 کروڑ روپئے کی امداد برائے تشخیص جاری کی جاتی ہے لیکن جاریہ ایسا ممکن ہوتا نظر نہیں آرہا ہے کیونکہ فی الحال صرف ایسے ہی افراد کی درخواستیں قبول کی جارہی ہیں جوکہ اچھے رسوخ کے حامل ہیں۔ حکومت بالخصوص وزیر اعلیٰ کے دفتر کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر زیرالتواء درخواستوں کی یکسوئی کو یقینی بناتے ہوئے نئی درخواستوں کی وصولی کا آغاز کریں تاکہ غریب عوام کو راست چیف منسٹر ریلیف فنڈ سے جو راحت میسر تھی اُس کا سلسلہ جاری رہ سکے۔