نئی دہلی ۔/19مارچ، ( سیاست ڈاٹ کام ) چیف منسٹر ارویند کجریوال کی بنگلور سے واپسی کے بعد عوامی دربار پروگرام کے دوسرے دن آج حکومت کے ایڈس پراجکٹ کے تحت برسرخدمت کنٹراکٹر ورکرس کا ایک گروپ اور جرمن لینگویج کے ٹیچرس کا دوسرا گروپ ان سینکڑوں افراد میں شامل تھا جنہوں نے چیف منسٹر سے ملاقات کی ہے۔ 30افراد پر مشتمل گروپ کو سابق حکومت نے ایڈس پراجکٹ کیلئے مامور کیا تھا یہ ادعا کیا کہ دہلی میں صدر راج کے نفاذ کے بعد پراجکٹ کے فنڈس روک دیئے گئے جس کے باعث انہیں تنخواہیں ادا نہیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دہلی حکومت کے ایچ آئی وی ؍ ایڈس پروگرام کے تحت ان کی خدمات حاصل کی گئیں لیکن گذشتہ 8ماہ سے انہیں تنخواہیں ادا نہیں کی جارہی ہیں اور نہ ہی ایک روپیہ اس پراجکٹ کیلئے مختص کیا گیا ہے۔ کنٹراکٹ ورکرس کے نمائندوں نے بتایا کہ چیف منسٹر ارویند کجریوال نے مسئلہ کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کا تیقن دیا ہے۔ بعد ازاں 25جرمن لینگویج ٹیچرس کے دوسرے گروپ نے چیف منسٹر سے پرزور اپیل کی کہ ریاستی اسکولوں کے نصاب میں جرمن زبان کو شامل کیا جائے تاکہ انہیں روزگار حاصل ہوسکے۔ انہوں نے یہ شکایت کی کہ کیندریہ ودیالیہ اسکولوں سے جرمن زبان کو نکال دینے مرکزی حکومت کے فیصلہ سے وہ بیروزگار ہوجائیں گے۔
اگر اس فیصلہ پر عمل کیا گیا تو 1000جرمن ٹیچرس اور 7000 طلباء متاثر ہوجائیں گے۔ لہذا ان ٹیچروں کو ریاستی اسکولوں میں تقرر کیا جائے۔ چیف منسٹر صبح 9بجے عوامی دربار پروگرام میں پہنچ گئے اور ہر ایک درخواست گذار سے ملاقات کرکے مسائل کی سماعت کی۔