عثمانیہ یونیورسٹی احتجاجی طلبہ کی تائید کا اعلان ، ڈی سرینواس کانگریس فلور لیڈر تلنگانہ کونسل کا بیان
حیدرآباد ۔ 18 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : کانگریس کے فلور لیڈر کونسل مسٹر ڈی سرینواس نے تمام محاذوں میں ناکام ہوجانے کا چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ پر الزام عائد کیا اور احتجاج کرنے والے عثمانیہ یونیورسٹی طلبہ کی بھر پور تائید کرنے کا اعلان کیا ۔ مسٹر ڈی سرینواس نے آج میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس اپنی حکومت کے ڈھائی ماہ مکمل کرچکی ہے باوجود اس کے ریاست میں حکومت کا کوئی وجود نظر نہیں آرہا ہے ۔ سرکاری مشنری ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے ۔ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں جو وعدے کئے ہیں ان میں ایک پر بھی عمل آوری کا آغاز نہیں ہوا ہے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور وزراء صرف اشتعال انگیزی پیدا کرتے ہوئے اصل مسائل سے عوامی توجہ ہٹانے میں مصروف ہیں ۔ جس کی وہ سخت مذمت کرتے ہیں ۔ چیف منسٹر کے آبائی ضلع میدک میں پولیس نے اپنے جائز حقوق کے لیے جمہوری طرز پر احتجاج کرنے والے کسانوں پر لاٹھی چارج کیا ہے قرضوں کی معافی کا وعدہ کیا گیا ۔ کابینہ اجلاس میں منظوری دی گئی ۔ مگر اس پر عمل آوری نہیں ہوئی ۔ برقی مسائل سے کسان پریشان ہیں ۔ حکومت کسانوں کو اعتماد میں لینے اور واضح پالیسی کا اعلان کرنے میں پوری طرح ناکام ہوگئی ہے ۔ جس سے کسان خود کشی کرنے کے لیے مجبور ہورہے ہیں ۔ تلنگانہ کی تحریک میں طلبہ بالخصوص عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ نے اہم رول ادا کیا ہے ۔ مگر علحدہ تلنگانہ ریاست حاصل ہونے کے بعد حکومت طلبہ کو نظر انداز کررہی ہے ۔ ان پر بھی پولیس کے ذریعہ لاٹھی چارج کرایا گیا ہے ۔ کنٹراکٹ پر خدمات انجام دینے والے ملازمین کی خدمات مستقل کرنے کے فیصلے پر طلبہ کو اعتراض ہے اور طلبہ احتجاج کا رخ اختیار کرچکے ہیں ۔ حکومت طلبہ سے مشاورت کرنے اور انہیں اعتماد میں لینے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ وہ کانگریس پارٹی طلبہ کے احتجاج کی بھر پور تائید کرتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ طلبہ کو بات چیت کے لیے طلب کرے اور ان میں پائے جانے والے خدشات کو دور کرے بصورت دیگر کانگریس پارٹی طلبہ کے احتجاج کی تائید کرے گی ۔۔