عثمانیہ کے بجائے ایفلو کی اراضی حاصل کرنے کوشاں، ماضی میں بھی کے سی آر کے کئی چالبازیاں
حیدرآباد 24 مئی (سیاست نیوز) ریاستی حکومت کی جانب سے عثمانیہ یونیورسٹی کی اراضی کے حصول کا تنازعہ شدت اختیار کرتا جارہا ہے اور طلباء کی جانب سے حکومت کو سخت انتباہ دیئے جانے لگے ہیں۔ گزشتہ دنوں احتجاجی مظاہروں کے دوران عثمانیہ یونیورسٹی طلباء نے ایک سے زائد مرتبہ چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کے پتلے نذر آتش کئے اور ریاست میں اہم اپوزیشن جماعت کانگریس نے طلباء کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے حکومت کے خلاف محاذ کھول دیا لیکن کیا واقعی چیف منسٹر کی نظریں عثمانیہ یونیورسٹی کی اراضی پر ہے؟ چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھرراؤ نے سکریٹریٹ کی تعمیر کے لئے چیسٹ ہاسپٹل کی نشاندہی کرتے ہوئے ایک تنازعہ کھڑا کردیا تھا اور چیسٹ ہاسپٹل کی جگہ پر سکریٹریٹ کی تعمیر و چیسٹ ہاسپٹل کی منتقلی کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر مہم شروع ہوگئی تھی لیکن چیسٹ ہاسپٹل کی منتقلی اور سکریٹریٹ کی اس جگہ پر تعمیر کا عمل نہ صرف روک دیا گیا بلکہ یہ واضح کردیا گیا کہ اس جگہ سکریٹریٹ تعمیر نہیں کیا جائے گا بلکہ مرکزی حکومت سے دوسری جگہ کے حصول کی کوشش کی جائے گی۔ بعدازاں چیف منسٹر نے پریڈ گراؤنڈ سکندرآباد کو سکریٹریٹ کیلئے منتخب کرنے کا فیصلہ کیا اور مرکزی حکومت کی ملکیت والے اس وسیع و عریض میدان کو حاصل کرنے کی راہیں ہموار کرلیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ درحقیقت چیف منسٹر ’’کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ‘‘ والا منصوبہ تیار کرتے ہوئے حصول اراضیات پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ درحقیقت جامعہ عثمانیہ کی اراضی حاصل کرنے کے حق میں نہیں ہیں بلکہ اُن کا نشانہ ایفلو کی اراضی ہے اور ایفلو کی اراضی کے تحفظ کیلئے جامعہ عثمانیہ کے طلباء مداخلت نہ کریں اسی لئے پہلے ابتدائی طور پر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ حکومت کو غریب شہریوں کے لئے امکنہ کی تعمیر کیلئے عثمانیہ یونیورسٹی کی اراضی درکار ہے جس پر طلباء نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع کردیا۔ حکومت اب اپنے منصوبہ کے مطابق ایفلو کی اراضی کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پہلے یہ نہ کہا جاتا کہ عثمانیہ یونیورسٹی کی اراضی کے حصول کی کوشش کی جارہی ہے تو پھر ایفلو کی اراضی کے تحفظ کیلئے بھی یونیورسٹی طلباء اُٹھ کھڑے ہوتے اِسی لئے یہ تاثر دیا گیا کہ یونیورسٹی کی اراضی حاصل کی جارہی ہے اور اب یہ کہا جائے گا کہ یونیورسٹی طلباء کے مطالبہ کا احترام کرتے ہوئے پراجکٹ کا مقام تبدیل کردیا جائے گا۔