چیف منسٹر بہار کو ہٹادینے کی قیاس آرائیاں مسترد: نتیش کمار

پٹنہ ۔ 8 ۔ جنوری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : سینئیر جنتا دل (یو) لیڈر مسٹر نتیش کمار نے آج ان قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا کہ وہ ، چیف منسٹر بہار کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے دہلی کا دورہ کررہے ہیں تاکہ پارٹی سربراہ شردیادو اور ایس پی ، آر جے ڈی قائدین سے تبادلہ خیال کیا جاسکے ۔ میڈیا کے نمائندوں نے جب ان سے دریافت کیا کہ چیف منسٹر جتن رام مانجھی برقرار رہیں گے یا نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں اکیلا یہ فیصلہ نہیں کرسکتا ۔ قومی دارالحکومت روانگی سے قبل پٹنہ ایرپورٹ پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے نتیش کمار نے کہا کہ بہار کے مسئلہ پر دہلی میں فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ پٹنہ ہائی کورٹ کی جانب سے 4 ارکان اسمبلی کی رکنیت بحال کرنے پر چیف منسٹر کے تبصرہ کے بارے میں پارٹی میں جاریہ چہ مگیوں پر انہوں نے کہا کہ متضاد آراء کا اظہار کرنا پارٹی کے لیے مناسب نہیں ہے ۔ لیکن چیف منسٹر کے بیان سے پارٹی کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ گذشتہ سال عام انتخابات میں جنتادل متحدہ کی ناقص مظاہرہ کے بعد نتیش کمار چیف منسٹر مانجھی کو تبدیل کردینے پر غور کررہے ہیں جب کہ چیف منسٹر کے بعض متنازعہ بیانات سے بھی وہ ناراض ہیں اور یہ تصور کرتے ہیں کہ جاریہ سال منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات کی تیاری کے لیے چیف منسٹر کی تبدیلی ناگزیر ہوگئی ۔ قبل ازیں جتن رام مانجھی نے ہائی کورٹ فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جنتادل ( متحدہ ) کے باغی ارکان کی رکنیت ختم کرنے کے حق میں نہیں ہیں جب کہ وزیر پارلیمانی امور شروان کمار جو کہ نتیش کمار کے با اعتماد رفیق ہیں کہا کہ چیف منسٹر کا یہ وطیرہ بن گیا ہے کہ بیانات دے کر واپس لے لیا جائے ۔ انہوں نے یہ مشورہ بھی دیا کہ لب کشائی سے قبل کسی بھی مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ لیں ۔ جس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ وہ چالاک اور ہوشیار سیاستداں نہیں ہیں اور اپنے طویل تجربہ کی بنیاد پر کہتے ہیں۔ انہوں نے اس خصوص میں فلمی نغمے کا حوالہ دیا ’’سب کچھ سیکھا ہم نے ، نہ سیکھی ہوشیاری ، سچ ہے دنیا والو کہ ہم ہیں اناڑی ‘‘۔انہوں نے کہا کہ مجیھ حکومت چلانے کیلئے منتخب کیا گیا ہے اور میں یہ کام بحسن خوبی انجام دے رہا ہوں۔ مسٹر مانجھی نے بتایا کہ بے شک و ہوشیار نہیں ہیں اور جھوٹ بولنا بھی نہیں جانتے، اور میں صرف دیرینہ تجربہ کی بنیاد پر جو کچھ بھی بولتا ہوں بدقسمتی سے وہ سرخیاں بن جاتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دو یوم قبل بڑے پیمانہ پر آئی اے ایس عہدیداروں کے تبادلے عمل میں لائے گئے جس میں سینئر عہدیداروں بشمول پرنسپال سکریٹری عامر سبحانی کو جنہیں نتیش کمار کا اعتماد حاصل تھا کلیدی محکموں سے ہٹادیا گیا جس کے باعث یہ تاثر ملتا ہے

اقتدار کے راہداریوں میں چیف منسٹر اپنے آپ کو نمایاں کرنا چاہتے ہیں۔ دریں اثناء صدر راشٹریہ لوک سمتا پارٹی اور مرکزی مملکتی وزیر تعلیم اوپیندرا کشوا نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ باوثوق ذرائع سے انہیں یہ اطلاع ملی ہے کہ نتیش کمار اور چیف منسٹر مانجھی کے درمیان ٹھن گئی ہے اور انہیں عہدہ سے ہٹانے کیلئے بے چین ہیں لیکن وہ ایسا کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ انہوں نے مانجھی کے بارے میں جاریہ قیاس آرائیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نتیش کمار ایک عرصہ سے چیف منسٹر کو ہٹانے کی کوش میں ہیں لیکن یہ کام ان کیلئے آسان نہیں ہے۔ قبل ازیں جنتا دل ( یو ) کے باغی لیڈر گینندر سنگھ گیانو نے جوکہ ان چار ارکان اسمبلی میں شامل ہیں جن کی رکنیت پٹہ ہائی کورٹ نے بحال کردی ہے کہا کہ وہ جتن کمار مانجھی کو چیف منسٹر کے عہدہ سے بیدخل کرنے اور ان کی جگہ نتیش کمار کی واپسی کے خلاف ہیں۔ایک اور مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان نے ان قیاس آرائیوں پر کہ جتن کمار مانجھی کو چیف منسٹر کے عہدہ سے ہٹادینے کا امکان ہے، انہیں یہ مشورہ دیا ہے کہ توہین آمیز رویہ کے خلاف بطور احتجاج استعفیٰ پیش کردیں۔ چیف منسٹر کے بارے میں جاریہ قیاس آرائیوں پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ نتیش کمار کے قریبی جنتا دل متحدہ کے لیڈروں کے توہین آمیز رویہ کے پیش نظر مانجھی کو استعفی دے دینا چاہیئے۔لوک جن جن شکتی پارٹی سربراہ نے سابق چیف منسٹر نتیش کمار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں دلتوں اور مہا دلتوں کے ووٹوں سے دلچسپی ہے لیکن ان کا احترام نہیں کرتے۔ مسٹر پاسوان نے کہا کہ کمزور طبقات کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے نتیش کمار نے اپنے دور حکومت میں مہا دلت کمیشن کا قیام عمل میں لایا اور استعفی دینے کے بعد محض غریبوں سے محبت کا اظہار کرنے کیلئے جتن کمار مانجھی کو کٹھ پتلی بنالیا، درحقیقت چیف منسٹر کے اختیارات نتیش کمار نے سلب کرلئے ہیں۔