کانگریس کی نوٹس میں سیاسی محرکات پر مبنی ، وجئے گوئل کا الزام
نئی دہلی۔ 21 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) وجئے گوئل نے آج کہا کہ چیف جسٹس آف انڈیا کے مواخذہ کیلئے کانگریس کی طرف سے دی گئی نوٹس سیاسی محرکات پر مبنی اور عدلیہ پر حملہ ہے۔ کانگریس کی قیادت میں 7 اپوزیشن جماعتوں نے گزشتہ روز چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مصرا کا مواخذہ کرنے کیلئے یہ قدم اٹھایا تھا جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ان کے خلاف نوٹس پیش کرتے ہوئے اپنی اتھاریٹی کے بے جا استعمال اور غلط برتاؤ کا الزام عائد کیا تھا۔ گوئل نے کہا کہ جسٹس لویا کے کیس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ چونکہ اُس (کانگریس) کی خواہش و مرضی کے مطابق نہیں تھا، جس کے بعد کانگریس نے جلد بازی میں یہ قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن نے دستور کی اس دفعہ کے تحت یہ نوٹس جاری کی ہے جو عدالت عظمیٰ کے ججوں کا مواخذہ کرنے سے نہیں بلکہ برطرف کرنے سے متعلق ہے۔ مملکتی وزیر پارلیمانی اُمور نے مزید کہا کہ ’’میڈیا رپورٹس کے مطابق کانگریس نے دستور کی دفعہ 124(4) کے تحت نوٹس پیش کی ہے، لیکن اس مخصوص دفعہ میں مواخذہ کی نہیں بلکہ صرف سپریم کورٹ ججوں کی برطرفی کی گنجائش ہے چنانچہ اس نوٹس کو مسترد کئے جانے کی توقع ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی تحریک مواخذہ کیلئے ایوان کے دوتہائی ارکان کی ااکثریت سے منظوری ضروری ہے۔ گوئل نے اپوزیشن جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تحریک مواخذہ دراصل چیف جسٹس آف انڈیا کے عہدہ کا وقار گھٹانے کی کوشش ہے۔ گوئل نے کہا کہ ’’یہ انتہائی بدبختانہ اور شرمناک ہے کہ کانگریس کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ عدلیہ کو حملوں کا نشانہ بنارہی ہے‘‘۔