لندن۔ 18جولائی (سیاست ڈاٹ کام) سائنس و ٹکنالوجی کے اس دور میں ہر رو ز انکشافات ہورہے ہیں۔ بڑی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں نئے نئے دعوؤں کیساتھ مارکیٹ میں آرہی ہیں۔ اب کمپنیاں اس بات کا دعوی کررہی ہیں کہ آپ کی گلی میں نصب کیمرہ اس بات کا اندازہ لگا سکتا ہے کہ آپ مزاجاً خوش ہیں یا کسی کیلئے خطرہ تو نہیں ثابت ہورہے ہیں۔ تاہم بعض کمپنیاں اس بات کا بھی دعویٰ کر رہی ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی اب ہمارے جذبات کی کیفیت کو بھی شناخت کر سکتی ہے ۔ماہرین نفسیات کے مطابق کسی تصویر یا ویڈیو کو دیکھنے کے بعد وہ اس شخص کے چھپے ‘ مائیکرو تاثرات’ کو پہچان سکتے ہیں اور اب ٹیک کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت والے سافٹ ویئر الگوردم اور ہائی ڈیفینیشن یا اعلیٰ کوالٹی کے کیمروں کی مدد سے اس عمل کو زیادہ درست اور تیزی سے انجام دے سکتی ہیں۔چہرے کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی پہلے سے موجود ہیں لیکن حالیہ برسوں میں کمپیوٹر کی استعداد میں بہتری ومصنوعی ذہانت میں ترقی سے اس نے تیزی سے ترقی کی ہے ۔یہ ٹیکنالوجی نہ صرف اب ہمارے احساسات کو بلکہ مشکوک رویوں کو بھی بھانپ سکتی ہے ۔ اب اس ٹیکنالوجی کا استعمال لوگوں کو شناخت کیلئے سرحدوں، اسمارٹ فونس کو کھولنے ، مجرموں کی شناخت اور بینکوں میں رقم کی منتقلی کی اجازت میں استعمال ہو رہا ہے ۔