خصوصی بٹالینس کی تشکیل کو بھی منظوری ۔ وزیر داخلہ کی صدارت میں خصوصی اجلاس کا انعقاد
نئی دہلی 9 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) یہ واضح کرتے ہوئے کہ ماؤیسٹوں کی تخریب کاری سے سختی کے ساتھ نمٹا جائیگا حکومت نے آج اس بات سے اتفاق کیا کہ نکسلائیٹس سے متاثرہ علاقہ میں خدمات انجام دینے والی فوج کو ہیلی کاپٹرس فراہم کئے جائیں گے تاکہ وہ تصادم سے نمٹنے میں موثر ثابت ہوسکیں۔ وزیر داخلہ مسٹر راج ناتھ سنگھ کی صدارت میں آج منعقدہ ایک اعلی سطح کے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ چھتیس گڑھ میں ترقیاتی کاموں کو آگے بڑھانے کیلئے 2,000 ہمہ صلاحیت کے حامل عہدیداروں کو فراہم کیا جائے ۔ نکسلائیٹس کے تشدد سے چھتیس گڑھ سب سے زیادہ متاثر ہے ۔ اجلاس کے دوران ‘ جس میں چیف منسٹر چھتیس گڑھ رمن سنگھ اور وزارت اعلی کے عہدیداروں نے بھی شرکت کی معتمد داخلہ مسٹر انیل گوسوامی نے تفصیلات سے واقف کروایا ۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ چار ہیلی کاپٹرس کسی تصادم کی صورتحال میں بچاؤ خدمات یا افواج کی نقل و حرکت کیلئے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ سرکاری ذرائع نے یہ بات بتائی ۔ وزارت داخلہ نے اصولی طور پر اس بات سے اتفاق کرلیا کہ ان ہیلی کاپٹرس کی تعداد کو چار سے بڑھا کر چھ کردیا جائیگا تاہم اس کیلئے وزارت دفاع کی منظوری حاصل کی جاسکے ۔ ذرائع کے بموجب چونکہ نکسلائیٹس سے متاثرہ ریاستوں میں ترقیاتی کاموں کو آگے بڑھانے اور انہیں تکمیل تک پہونچانے کیلئے کنٹراکٹرس کی تعداد بہت کم ہے چیف منسٹر رمن سنگھ نے مرکز سے اس سلسلہ میں مدد طلب کی ہے اور یہ خواہش کی ہے کہ فنی معلومات رکھنے والے ہمہ صلاحیت کے حامل تقریبا 2,000 افراد کو فراہم کیا جائے ۔ چیف منسٹر رمن سنگھ نے اجلاس کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دو فنی بٹالینس ( تقریبا دو ہزار نفری ) کی مانگ کی گئی ہے تاکہ چھتیس گڑھ میں تعمیراتی پراجیکٹس کو آگے بڑھایا جائے ۔ ان بٹالینس میں انجینئرس کی تعداد زیادہ ہونی چاہئے ۔ بارڈر روڈ آرگنائزیشن کی جانب سے چھتیس گڑھ میں 2010 تک مختلف پراجیکٹس پر کام کیا جاتا تھا تاہم اس وقت کی یو پی اے حکومت کی جانب سے ہند ۔ چین سرحد پر روڈ نیٹ ورک کو بہتر بنانے کا فیصلہ کیا تھا تو اس فورس کو چھتیس گڑھ سے دستبردار کرلیا گیا تھا ۔ مرکزی حکومت نے حال ہی میں ریاست میں لا اینڈ آرڈر کی برقراری کیلئے دس اضافی بٹالینس کے قیام کی منظوری دیدی ہے جن کی نفری 10,000 ہوگی ۔