تلنگانہ ایک حقیقت بن جانے سے ٹی آر ایس کے پاس کوئی انتخابی موضوع نہیں رہا ، ششی دھر ریڈی
حیدرآباد ۔ 6 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : کانگریس کے سینئیر قائد اور نیشنل ڈیزاسسٹر مینجمنٹ اتھاریٹی کے وائس چیرمین ایم ششی دھر ریڈی نے آج الزام عائد کیا کہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ نہیں چاہتے تھے کہ لوک سبھا انتخابات سے عین قبل تلنگانہ ایک حقیقت بن جائے کیوں کہ اس سے ٹی آر ایس کو فائدہ حاصل ہوتا تھا ۔ یہاں نمائندہ سیاست سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ ٹی آر ایس یہ نہیں چاہتی تھی کہ لوک سبھا انتخابات سے عین قبل تلنگانہ ایک حقیقت بنے کیوں کہ اس میں اس کے مفادات تھے ۔ یہ کہتے ہوئے کہ تلنگانہ کے عوام کے سی آر کو سبق سکھائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے ساتھ چندر شیکھر راؤ کی دغابازی توقع کے مطابق ہے اور وہ بی جے پی کے ساتھ رابطہ میں ہیں ۔ یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ کے سی آر اتحاد کرنے کے معاملہ میں کمرشیل انداز اپنا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان جماعتوں کی حمایت کریں گے جو انہیں زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچائیں گے ۔ اس سوال پر کہ آیا ریاست کی تقسیم کے بعد کانگریس کو اچھے ووٹ حاصل ہونے کی امید ہے اور آیا کے سی آر کے موقف سے کانگریس کے انتخابی منصوبوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔ مسٹر ششی دھر ریڈی نے کہا کہ ووٹ منتقل ہونے کا سوال ہی نہیں ہے اور اب تلنگانہ کوئی مسئلہ نہیں رہا ۔
مسٹر ششی دھر ریڈی نے کہا کہ کانگریس تنہا مقابلہ کرے گی اور وہ اس کے لیے تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس بات پر پر اعتماد ہے کہ اسے اچھی تعداد میں ووٹ حاصل ہوں گے کیوں کہ اس نے اپنے انتخابی وعدہ کو پورا کرتے ہوئے علحدہ ریاست تلنگانہ تشکیل دی ہے ۔ کئی گوشوں سے اس کی مخالفت کے باوجود صدر کانگریس سونیا گاندھی نے علحدہ ریاست تلنگانہ کو ایک حقیقت بنانے کے اپنے وعدہ کو پورا کیا ہے ۔ اب چونکہ تلنگانہ ایک حقیقت بن گیا ہے اس لیے ٹی آر ایس کے پاس کوئی موضوع نہیں ہے ۔ جسے وہ اپنا انتخابی موضوع بناسکے ۔۔