چندرا بابو کو جاری کردہ وارنٹ کا جائزہ لینے وکیل کو روانہ کرنے کا فیصلہ

اے پی پولیس کا ایس پی ناندیڑ سے بات چیت ، چیف منسٹر اے پی کے دورہ امریکہ کے پیش نظر کیس کا جائزہ
حیدرآباد /19 ستمبر ( سیاست نیوز ) حکومت آندھراپردیش نے بابلی پراجکٹ احتجاج کے مسئلہ پر چیف منسٹر مسٹر این چندرا بابو نائیڈو کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ کی اجرائی سے متعلق اطلاعات پر 21 ستمبر کو خصوصی طور پر ایڈوکیٹ کو دھرما آباد کورٹ کو روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کورٹ کے ذریعہ کیس سے متعلق چارج شیٹ ، ناقابل ضمانت وارنٹ و دیگر اہم دستاویزات حاصل کرسکیں ۔ سرکاری ذرائع نے یہ بات بتائی اور کہا کہ اسی مسئلہ پر گذشتہ دن آندھراپردیش پولیس کے اعلی عہدیداروں سے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ناندیڑ ( ریاست مہاراشٹرا ) نے فون پر ربط پیدا کرکے دھرماآباد کورٹ میں زیر التواء کیس سے متعلق بات چیت کی اور بتایا جاتا ہے کہ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ناندیڑ نے ریاستی پولیس عہدیداروں کو اس بات سے واضح طور پر واقف کروایا کہ چیف منسٹر آندھراپردیش کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ زیر تعمیل ہے اور اس تعلق سے ایک مکتوب کے ساتھ ساتھ ناقابل ضمانت وارنٹ بھی روانہ کیا جائے گا ۔ بعد ازاں ریاستی پولیس نے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ناندیڑ کو واقف کروایا کہ ایک مکتوب ہی حکومت کو وصول ہوا ہے اور ناقابل ضمانت وارنٹ روانہ نہ کئے جانے کے تعلق سے پولیس ناندیڑ کو مطلع کردیا پولیس ناندیڑ سے اے پی پولیس نے دریافت کیا کہ آیا کیس سے متعلق دستاویزات کے بغیر کس بنیاد پر کورٹ سے رجوع ہوسکتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس کے ذریعہ ریاستی حکومت کو موصولہ مکتوب کی روشنی میں چندرا بابو نائیڈو ریاستی وزراء ڈی اوما مہیشور راؤ ، این آنند بابو کے بشمول مزید 16 افراد کو حاضر عدالت ہونے کی ہدایت دیتے ہوئے نوٹس جاری کی گئی ہے ۔ ذرائع نے مزید بتایا چونکہ چندرا بابو نائیڈو کو اقوام متحدہ میں اجلاس سے خطاب کرنے کیلئے امریکہ روانہ ہونا ضروری ہے ۔ جس کی روشنی میں ہی چیف منسٹر نے اپنے بجائے وکلاء کو دھرماآباد کورٹ کو روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔