چندرا بابو پر تلنگانہ سے نا انصافی کیلئے مرکزی حکومت کو استعمال کرنے کا الزام

چیف منسٹر آندھرا پردیش کو تلنگانہ میں مداخلت کا اختیار نہیں ، کے ٹی آر کی سخت تنقید
حیدرآباد ۔ 7 ۔جولائی (سیاست نیوز) ریاستی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی تارک راما راؤ نے چیف منسٹر آندھراپردیش چندرا بابو نائیڈو کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ چندرا بابونائیڈو تلنگانہ سے ناانصافی کیلئے مرکزی حکومت کو استعمال کر رہے ہیں۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہاکہ ہر معمولی مسئلہ پر چندرا بابو نائیڈو مرکز کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی پر اکسا رہے ہیں۔ کے ٹی راما راؤ نے امن و ضبط کی صورتحال کے بارے میں چندرا بابو نائیڈو کے مکتوب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں لاء اینڈ آرڈر کے مسئلہ پر چندرا بابونائیڈو کو رائے دینے کا حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت اپنے علاقوں میں امن و ضبط کی صورتحال کی برقراری کی پابند ہے اور دوسری ریاست کو اس معاملہ میں مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت حیدرآباد اور دیگر علاقوں میں امن و ضبط کی برقراری کی اہلیت رکھتی ہے اوراسے کسی کے مشورہ کی ضرورت نہیں۔ حیدرآباد میں لاء اینڈ آرڈر کے سلسلہ میں گورنر کو زائد اختیارات کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ اس مسئلہ پر تلنگانہ حکومت عدالت سے رجوع ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو کی ایماء پر مرکزی حکومت گورنر کو زائد اختیارات تفویض کرنے پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ریاست میں امن و ضبط کا مسئلہ اس ریاست کی حکومت کے تحت ہوتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کے اختیارات سلف کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ ضرورت پڑنے پر حکومت عدالت سے رجوع ہوگی۔ تارک راما راؤ نے کہا کہ 10 برسوں تک چندرا بابو نائیڈو حیدرآباد میں بطور مہمان رہیں گے اور انہیں خود کو مہمان تصور کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سابق آندھراپردیش کے چیف منسٹر کی طرح چندرا بابو نائیڈو کو اپنی سرگرمیاں ترک کرنی ہوگی ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چندرا بابو نائیڈو تلنگانہ عوام کے جذبات کو مشتعل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ کے سی آر نے واضح کیا کہ تلنگانہ کے علاقہ میں سرکاری اور دیگر اراضیات پر ناجائز قبضوں کے خلاف حکومت سخت کارروائی کرے گی ۔ انہوں نے گروکل ٹرسٹ کی اراضی پر ناجائز قبضوں کی برخواستگی کیلئے حکومت کے حالیہ اقدامات کی تائید کی ۔ انہوں نے کہا کہ آندھرائی حکمرانوں نے من مانی طور پر سرکاری اراضیات خانگی کمپنیوں کے حوالے کردی تھی۔