نام نہاد ٹکنیکل ماہر کے خلاف 2010 میں ایف آئی آر درج کیا گیا تھا ، الیکشن کمیشن کا مکتوب
نئی دہلی ۔ 13 ۔ اپریل : ( پی ٹی آئی ) : الیکشن کمیشن نے تلگو دیشم پارٹی سے سوال کیا ہے کہ آیا کس طرح ایک ایسا شخص اس ( تلگو دیشم ) کے صدر این چندرا بابو نائیڈو کے آج یہاں پہونچنے والے وفد کا حصہ ہوسکتا ہے جس کے خلاف الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی چوری کا فوجداری مقدمات درج ہیں ۔ الیکشن کمیشن نے اپنے مکتوب میں کہا کہ نائیڈو نے جب یہاں کا دورہ کیا ان کے ساتھ ایک ہری پرساد بھی شامل تھا جو ماضی میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی کارکردگی کے بارے میں کئی تکنیکی سوالات اٹھایا تھا اور دعویث کیا تھا کہ وہ اس شعبہ میں کافی تکنیکی مہارت رکھتا ہے ۔ مکتوب میں بیان کیا گیا ہے کہ قبل ازیں یہ کہا گیا تھا کہ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی ٹکنیکل ٹیم سے وہ تفصیلات حاصل کرے گا ۔ ’ جب یہ ٹکنیکل ماہر شخص ، وہاں پہونچا تو پتہ چلا کہ یہ ہری پرساد ہے جو 2010 میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین ( ای وی ایم ) کی چوری سے متعلق ایک فوجداری مقدمہ میں ملوث ہے اس کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کیا گیا تھا ۔ تحقیقات کا نتیجہ بعد میں خواہ جو کچھ بھی ہوگا لیکن کیا یہی بہتر ہوگا کہ اس قسم کا ریکارڈ رکھنے والے پر بھروسہ نہ کیا جاتا ‘ ۔ تلگو دیشم پارٹی کے شعبہ قانون کے صدر کے نام مکتوب میں الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ بالکلیہ طور پر افسوسناک و افسوسناک امر ہے کہ آیا کس طرح ایک نام نہاد ’ ٹکنیکل ماہر ‘ کو آندھرا پردیش کے چیف منسٹر اور تلگو دیشم پارٹی کے صدر این چندرا بابو نائیڈو کے وفد کا حصہ بننے کی اجازت دی گئی جو اس قسم کے ریکارڈ کا حامل ہے ‘ ۔۔