چندرا بابو نائیڈو حکومت کا ایک ماہ ، آفس عدم تیار

مرکز سے فنڈز کے حصول پر توجہ ، ملٹی نیشنل کمپنیوں سے سرمایہ کاری کے لیے نمائندگی ، عمر وظیفہ میں اضافہ اہم فیصلہ
حیدرآباد۔/8جولائی، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش ریاست میں صدر تلگودیشم این چندرا بابو نائیڈو کی زیر قیادت تلگودیشم حکومت کا ایک ماہ آج مکمل ہوگیا۔ 8جون کو چندرا بابو نائیڈو نے اپنے کابینی رفقاء کے ساتھ حلف لیا تھا۔ حکومت کے ایک ماہ کے دوران چندرا بابو نائیڈو نے آندھرا پردیش کی ترقی اور سرمایہ کاری میں اضافہ کے سلسلہ میں مرکزی حکومت اور ملٹی نیشنل کمپنیوں سے مذاکرات کا آغاز کیا۔ مرکزی حکومت سے آندھرا پردیش ریاست کی ترقی میں خصوصی فنڈز کے حصول کے سلسلہ میں بھی چندرا بابو نائیڈو نے مساعی کی تاہم ابھی تک کوئی ٹھوس نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ ایک ماہ کی مدت میں انتخابی وعدوں کی تکمیل کے سلسلہ میں چندرا بابو نائیڈو نے بعض فیصلے ضرور کئے لیکن ان کی زیادہ تر توجہ مرکزی حکومت سے فنڈز کے حصول پر مرکوز رہی۔ ایک ماہ گذرنے کے باوجود ابھی تک سکریٹریٹ میں چیف منسٹر کیلئے آفس تیار نہیں ہوا ہے جس کے باعث وہ اپنے سرکاری دفتر میں کوئی اہم فیصلے نہیں کرسکے۔ نائیڈو لیک ویو گیسٹ ہاوز سے کیمپ آفس چلارہے ہیں اور وہاں سے آندھرا پردیش ریاست کی حکمرانی سے متعلق فیصلے کررہے ہیں۔ چونکہ حیدرآباد 10برسوں تک دونوں ریاستوں کا مشترکہ دارالحکومت ہے لہذا آندھرا پردیش کے 13اضلاع پر نائیڈو کی حکمرانی لیک ویو گیسٹ ہاوز سے چل رہی ہے۔ ایک ماہ کی مدت میں چندرا بابو نائیڈو نے جو اہم فیصلے کئے ان میں آندھرا پردیش کے سرکاری ملازمین کے وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر میں دو سال کا اضافہ کرتے ہوئے 60سال مقرر کرنا اور برقی کی خریدی سے متعلق سابق حکومت کے معاہدات کی منسوخی شامل ہیں۔ چندرا بابو نائیڈو وزارت میں ایک بھی مسلم وزیر نہیں کیونکہ آندھرا پردیش میں تلگودیشم کے ٹکٹ پر ایک بھی مسلم رکن اسمبلی منتخب نہیں ہوا۔ انہوں نے اننت پور سے تعلق رکھنے والے پلے رگھو ناتھ ریڈی کو اقلیتی بہبود کا قلمدان دیا ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ بہت جلد پارٹی کے کسی اقلیتی قائد کو وزارت میں شامل کیا جائے گا اور انہیں کونسل سے بعد میں منتخب کیا جائے گا۔ آندھرا پردیش اسمبلی میں واضح اکثریت کے حصول کے باوجود چندرا بابو نائیڈو نے بی جے پی کے دو وزراء کو ریاستی کابینہ میں شامل کیا ہے۔ مرکز میں این ڈی اے حکومت میں تلگودیشم کی شمولیت کے سبب شائد آندھرا پردیش میں بی جے پی کو کابینہ میں نمائندگی دی گئی۔ چندرا بابو نائیڈو نے عوام سے جو انتخابی وعدے کئے تھے ان میں کسی اہم وعدہ کی بھی ایک ماہ میں تکمیل نہیں کی گئی۔ کسانوں کے زرعی قرضوں کی معافی کا وعدہ ابھی تک مکمل نہیں ہوا۔ حکومت نے اس مسئلہ کا جائزہ لینے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس نے ابھی تک حکومت کو رپورٹ پیش نہیں کی۔ دوسری طرف ریزروبینک آف انڈیا نے قرضوں کی معافی کی تجویز کو نامنظور کردیا۔ طلبہ کے فیس ری ایمبرسمنٹ اور غریبوں کو طبی خدمات کی فراہمی سے متعلق آروگیہ سری اسکیم پر عمل آوری کے سلسلہ میں بھی چندرا بابو نائیڈو حکومت کا موقف غیر واضح ہے جس کے باعث طلبہ اور غریب عوام اُلجھن کا شکار ہیں۔ چندرا بابو نائیڈو نے ایک ماہ گذرنے کے باوجود ابھی تک آندھرا پردیش کے نئے صدر مقام کیلئے علاقہ کا تعین نہیں کیا۔ اس سلسلہ میں مرکز سے فنڈز کے حصول میں بھی تاحال انہیں کامیابی نہیں ملی۔ آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دلانے کیلئے چندرا بابو نائیڈو کی کوششوں کو اس وقت دھکہ لگا جب پلاننگ کمیشن نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا۔ ایک ماہ کے دوران چندرا بابو نائیڈو نے مرکزی حکومت پر اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے بعض اہم فیصلے کرائے جو تلنگانہ حکومت کے مفادات سے ٹکراتے ہیں۔ ان میں گورنر کو زائد اختیارات اور پولاورم پراجکٹ کے تحت کھمم کے سات منڈلوں کا آندھرا پردیش میں انضمام شامل ہے۔ چندرا بابو نائیڈو نے انتخابات کے دوران کاپو اور پسماندہ طبقات کو حکومت میں مناسب نمائندگی کا وعدہ کیا تھا اور کابینہ میں ان طبقات کو ڈپٹی چیف منسٹرس کے اہم عہدے دیئے گئے۔ ایک ڈپٹی چیف منسٹر بی سی اور دوسرے کا تعلق کاپو طبقہ سے ہے۔ چندرا بابو نائیڈو جو سابق میں 9برسوں تک چیف منسٹر اور 10برس تک قائد اپوزیشن کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں، آندھرا پردیش کے چیف منسٹر کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد روزانہ مختلف اُمور پر جائزہ اجلاس منعقد کرنے میں اپنا وقت صرف کررہے ہیں تاہم جائزہ اجلاسوں میں کوئی اہم فیصلے منظر عام پر نہیں آئے۔ متحدہ آندھرا پردیش کی دو ریاستوں میں تقسیم کے بعد ملازمین اور آل انڈیا سرویسس سے وابستہ عہدیداروں کی تقسیم میں تاخیر کے سبب دونوں نئی ریاستوں کا نظم و نسق بری طرح متاثر ہوا ہے۔ آل انڈیا سرویسس کے الاٹمنٹ میں تاخیر کے سبب آندھرا پردیش حکومت کی کارکردگی بھی متاثر ہوئی ہے۔ چندرا بابو نائیڈو گذشتہ ایک ماہ دوران کانگریس دور حکومت کے کئی فیصلوں کا جائزہ لیتے رہے اور انہوں نے کانگریس حکومت کی بعض منظوریوں اور فیصلوں سے دستبرداری کا من بنالیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ایک ماہ کے دوران چندرا بابو نائیڈو مرکز پر اثر انداز ہونے میں کامیاب رہے اور اس سلسلہ میں انہوں نے وینکیا نائیڈو، نرملا سیتا رامن اور اشوک گجپتی راجو کی خدمات کا بھرپور استعمال کیا جوکہ مرکزی وزارت میں آندھرا پردیش کی نمائندگی کرتے ہیں۔گذشتہ ایک ماہ کے دوران مرکز کا جھکاؤ بھی آندھرا پردیش کی طرف کچھ زیادہ ہی دکھائی دیا ہے۔ مبصرین نے چندرا بابو نائیڈو حکومت کی ایک ماہ کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عوامی سطح پر اگرچہ کوئی اہم فیصلے نہیں کئے جاسکے تاہم نئے دارالحکومت کی تعمیر کیلئے سنگاپور، جاپان اور دوسرے ممالک کے تعاون کے حصول میں نائیڈو کامیاب رہے۔ آندھرا پردیش میں سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ اور مرکز سے زائد فنڈز کے حصول کی کوششوں کے نتائج آنے والے دنوں میں برآمد ہوں گے۔