حیدرآباد ۔ /7 اگست (سیاست نیوز)۔ چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو نے آج زور دے کر کہا کہ ان کی حکومت ریاست کے طلباء کی فیس باز ادائیگی کی ذمہ داری لینے تیار ہے۔ اس کیلئے جو بھی مصارف ہوں گے ان کی حکومت ادا کرسکتی ہے۔ مابعد ریاست کی تقسیم وجئے واڑہ میں منعقد ہونے والی پہلی ڈسٹرکٹ کلکٹرس کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ ہماری حکومت آندھرا پردیش کے طلباء کی فیس باز ادائیگی کے مصارف برداشت کرنے تیار ہے اگر طلباء کی وطنیت سے متعلق تفصیلات کو اے پی ری آرگنائزیشن ایکٹ کے خطوط پر قطعیت دی جائے اور دیگر قانونی دفعات کو ملحوظ رکھا جائے تو حکومت یہ فیس ادا کرے گی انہوں نے چیف منسٹر تلنگانہ چندر شیکھر راو پر شدید تنقید کی اور کہا کہ میں ریاست کی تقسیم کے بعد پیدا ہونے والے مسائل کی یکسوئی کیلئے کوشش کررہا ہوں اور کے سی آر ہر مسئلہ پر اشتعال انگیز ریمارکس کر کے جلتی پر تیل چھڑک رہے ہیں۔ ایک ایسے وقت جبکہ ان کی حکومت مابعد تقسیم مسائل کا دوستانہ حل تلاش کرنے کوشاں ہے ۔ نئی ریاست تلنگانہ کے ذمہ داران مسائل کو مزیدپیچیدہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ہم دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں اور چیف منسٹر تلنگانہ ایک کے بعد دیگر اشتعال انگیزی کرتے جارہے ہیں اور ہمارے جامع ترقی کے ماڈل کو چیلنج کررہے ہیں ۔ اب تلنگانہ حکومت کا نیا سوشہ طلباء کی فیس باز ادائیگی کا مسئلہ ہے ۔ اے پی حکومت نے طلباء کی فیس پر 58 فیصد مصارف برداشت کرنے رضا مندی ظاہر کی ہے جبکہ مسٹر کے سی آر اپنے (تلنگانہ) طلباء کی فیس کو لے کر قلا بازیاں کھا رہے ہیں۔ تلنگانہ حکومت نے قبل ازیں کامن انٹرنس ٹسٹ کے ذریعہ داخلوں سے متعلق تنازعہ پیدا کیا تھا ۔ نائیڈو نے کہا کہ وہ ریاست کی تقسیم پر غیر جانبدارانہ موقف رکھتے تھے ۔ انہوں نے تمام کلکٹرس کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے اپنے ضلع میں ترقیاتی اسکیمات کو روبہ عمل لائیں اور انہوں نے عوام کی بہبود کیلئے فیصلے کرنے کا کلکٹرس کو پوری آزادی دینے کا اعلان کیا ۔ زرعی اور اس سے مربوط سرگرمیوں پر توجہ دینے دیہی علاقوں میں بہتر روزگار فراہم کرنے پر توجہ دی جائے ۔ نوجوانوں کو اچھی تربیت اور ماہرانہ ٹریننگ کے انتظام کی بھی ہدایت دی گئی ۔ ریاست آندھرا پردیش میں ایر پورٹس اور بندر گاہوں کو ترقی دی جائے گی۔ انہوںنے آدھار کے صد فیصد اندراج کو یقینی بنانے کلکٹرس کو ہدایت دی۔