کانگریس سے سیما عوام کا ا عتماد ختم ، جی سرینواس کا بیان
حیدرآباد /12 مارچ ( سیاست نیوز ) سیما آندھرا کو سنہرے آندھراپردیش میں تبدیل کرنا صرف اور صرف صدر تلگودیشم پارٹی مسٹر این چندرا بابون ائیڈو کے ذریعہ ہی ممکن ہوگا اور اگر کوئی بھی قائدین سیما آندھرا کی ترقی کا تذکرہ کرتے ہیں تو وہ قطعی غلط و گمراہ کن بات ہے ۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر جی سرینواس نے کہا کہ سابق کانگریس حکومت پر سے ریاست کی عوام بالخصوص سیما آندھرا عوام کا اعتماد ختم ہوچکا ہے ۔ کیونکہ کانگریس پارٹی نے ریاست کی تقسیم کے ذریعہ تلگو عوام میں تفرقہ پیدا کرکے اپنے سیاسی مفادات حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہے ۔ لیکن عوام ان تمام پیچیدہ حالات کو نظر انداز کرتے ہوئے ترقی کے ہی خواہشمند ہیں اور یہ ترقی صرف اور صرف مسٹر چندرا بابو نائیڈو کے ذریعہ ہی ممکن ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ ہونے والے انتخابات میں خواہ کتنی ہی سیاسی جماعتیں انتخابی میدان میں ہوں عوام نے تلگودیشم پارٹی کو بھاری اکثریت سے منتخب کرکے تشکیل حکومت کو یقینی بنانے کا تہیہ کرلیا ہے ۔
انہوں نے تلگو فلم اسٹار پون کلیان کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ پون کلیان نئی پارٹی تشکیل دینے کے بجائے تلگودیشم پارٹی کی تائید کریں تو کافی بہتر ہوگا ۔ مسٹر سرینواس نے بتایا کہ پون کلیان انسانی ہمدردی کا جذبہ رکھنے والی شخصیت ہیں اور انہیں ریاست کی تقسیم کے معاملہ میں دہلی کے قائدین کی کوششوں اور اختیار کردہ رویہ پر شاید تکلیف پہونچی ہوگی ۔ جس کے پیش نظر ہی وہ بھی اپنی نئی پارٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہوگا ۔ سابق وزیر نے پرزور الفاظ میں کہا کہ وہ پون کلیان سے کافی واقعات رکھتے ہیں ۔ لہذا بہت جلد پون کلیان سے ملاقات کرکے مجوزہ انتخابات میں تلگودیشم پارٹی کی بھرپور تائید کرنے کی پرزور خواہش کریں گے ۔ اگر صدر تلگودیشم پارٹی مسٹر این چندرا بابو نائیڈو اجازت دیں تو وہ پون کلیان کے ساتھ بات چیت بھی کرنے کیلئے تیار ہیں اور انہیں اس بات کا یقین ہے کہ مسٹر پون کی ملاقات اور بات چیت کو ہرگز نظر انداز نہیں کریں گے ۔ بلکہ ان سے مثبت ردعمل کے حصول کا یقین دکھتے ہیں ۔ مسٹر جی سرینواس نے مزید کہا کہ ساحلی آندھرا علاقہ تلگودیشم پارٹی انتہائی طاقتور قلعہ ہے اور اس قلعہ کو مزید مضبوط و مستحکم بناتے ہوئے تلگودیشم پارٹی کے سابقہ موقف کو بحال کرنے کیلئے موثر و مثبت اقدامات کریں گے ۔