چندرا بابو اور تلگو دیشم سے نمٹنا کسی کی بس کی بات نہیں : بابو راجندر پرساد

تلگو دیشم ارکان پارلیمنٹ کو صدر جمہوریہ سے ملاقات کی عدم اجازت پر اظہار افسوس
حیدرآباد ۔ /18 اپریل (سیاست نیوز) سینئر قائد تلگودیشم پارٹی و رکن آندھراپردیش قانون ساز کونسل مسٹر بابو راجندر پرساد نے کہا کہ چیف منسٹر آندھراپردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈو اور تلگودیشم پارٹی سے نمٹنا و اس کا مقابلہ کرنا کسی کے بس کی بات نہیں ہے ۔ انہوں نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے ارکان پارلیمان کی جانب سے آندھراپردیش کو خصوصی موقف فراہم کرنے کے مطالبہ پر دہلی میں صدرجمہوریہ ہند مسٹر رام ناتھ کووند سے ملاقات کرنے پر مسرت کا اظہار کیا ۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ اس بات پر اپنے گہرے تاسف کا اظہار کیا کہ یہی صدرجمہوریہ ہند مسٹر رام ناتھ کووند نے تلگودیشم پارٹی کے ارکان پارلیمان کو ملاقات کرنے کیلئے وقت دینے سے عملاً گریز کیا ۔ انہوں نے مرکزی حکومت اور بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہنے کا تصور نہ کرتے ہوئے بی جے پی قائد کی حیثیت سے انتہائی چلر سیاست کررہے ہیں ۔ مسٹر راجندر پرساد نے مزید کہا کہ محض تقسیم ریاست کے موقع پر دیئے گئے تیقنات پر عمل آوری نہ کرنے اور آندھراپردیش کو خصوصی موقف فراہم کرنے سے عملاً گریز کرنے وزیر اعظم کے اقدام کے خلاف ہی مسٹر ہری بابو نے ریاستی صدر بی جے پی آندھراپردیش کے عہدے سے مستعفی ہوگئے ۔ علاوہ ازیں بعض بی جے پی قائدین نے ریاست میں بی جے پی کے بالکلیہ طور پر کمزور موقف کو دیکھتے ہوئے بی جے پی سے دوری اختیار کرکے ریاست آندھراپردیش میں برسراقتدار تلگودیشم پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کیلئے کوشاں دکھائی دے رہے ہیں ۔ ریاست آندھراپردیش بالخصوص ضلع کرشنا میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی سرگرمیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مسٹر راجندر پرساد نے کہا کہ بالخصوص ضلع کرشنا میں جہاں وائی ایس آر پارٹی صدر و قائد اپوزیشن آندھراپردیش قانون ساز اسمبلی کی پرجاسنکلپ یاترا کے سلسلہ میں پدیاترا جاری ہے ۔ عوامی برائے نام ردعمل حاصل ہورہا ہے ۔ جس کی وجہ سے وائی ایس آر کانگریس پارٹی میں زبردست مایوسی کا اظہار پایا جارہا ہے ۔ رکن آندھراپردیش قانون ساز کونسل تلگودیشم پارٹی مسٹر راجندر پرساد نے وائی ایس آر کانگریس پارٹی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی محض اپنی سستی شہرت کے حصول کیلئے ہی اپنی جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے وائی ایس آر کانگریس پارٹی مسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی سے پٹی سیما ، پولاورم ، امراوتی سے متعلق اپنے موقف کو واضح کرنے کا پرزور مطالبہ کیا اور دریافت کیا کہ آیا ریاست آندھراپردیش کو خصوصی موقف دینے ۔ دہلی کے خطوط پر امراوتی کو راجدھانی میں تبدیل کرنے کیلئے وزیراعظم نریندر مودی نے جو وعدہ کیا تھا آیا صحیح نہیں ہے ؟