عدالت عالیہ کی فوری تقسیم کیلئے اقدامات کرنے مرکز سے کے ٹی آر کا مطالبہ
حیدرآباد 15 مارچ (این ایس ایس) تلنگانہ کے وزیر آئی ٹی و پنچایت راج کے تارک راما راؤ نے آج چیف منسٹر آندھراپردیش این چندرابابو نائیڈو پر ہائی کورٹ کی تقسیم میں رکاوٹ بننے کیلئے تنقید کی۔ وزیر موصوف نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیاکہ ہائی کورٹ کی فوری طور پر تقسیم عمل میں لائی جائے اور علیحدہ ہائی کورٹ قائم کیا جائے۔ آج یہاں میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کے ٹی آر نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر الزام عائد کیاکہ وہ ریاست کی جانب سے اس سلسلہ میں درخواست کئے جانے کے باوجود ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ کے چیف منسٹر کا عہدہ سنبھالنے کے پانچویں دن کے چندرشیکھر راؤ نے وزیراعظم نریندر مودی کو ایک مکتوب تحریر کرتے ہوئے ہائی کورٹ کی تقسیم کی ضرورت کو ظاہر کیا تھا۔ ہم اس کے لئے انتھک کوشش کررہے ہیں اور علیحدہ ہائی کورٹ کے قیام کے سلسلہ میں مرکز ہم سے جو بھی کرنے کے لئے کہے اس کیلئے تیار ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ چیف منسٹر نے تین مرتبہ وزیراعظم سے ملاقات کرکے ہائی کورٹ کو تقسیم کرنے کی درخواست کی ہے۔ تارک راما راؤ نے چیف منسٹر آندھراپردیش این چندرابابو نائیڈو پر الزام عائد کیاکہ وہ دو ریاستوں میں ہائی کورٹ کی تقسیم کو سبوتاج کررہے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے مرکز سے پرزور اپیل کی کہ ہائی کورٹ کی تقسیم کے عمل کو تیز کیا جائے۔ بار بار یاد دہانی کے باوجود اے پی چیف منسٹر اس سلسلہ میں رکاوٹیں پیدا کررہے ہیں۔ اُنھوں نے دریافت کیا کہ جب تمام محکمہ جات تقسیم ہوگئے ہیں تو پھر ہائی کورٹ کی تقسیم کیوں نہ ہو۔ کے ٹی آر نے ہائی کورٹ کی تقسیم میں غیرمعمولی تاخیر کو چندرابابو نائیڈو کی جانب سے پیدا کی جارہی رکاوٹ سے منسوب کیا۔