حیدرآباد /10 اپریل ( سیاست نیوز ) حیدرآباد ہائی کورٹ نے سیشا چلم جنگل میں پیش آئے انکاونٹر میں 20 مزدوروں کی ہلاکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انکاونٹر واقعہ کو 302 کے تحت قتل کا مقدمہ درج کرنے کی حکومت آندھراپردیش کو ہدایت دی ۔ آئندہ سماعت پیر تک ملتوی کردی ۔ آندھراپردیش کی پولیس نے انکاونٹر واقعہ پر ہائی کورٹ کو ایک رپورٹ پیش کی ۔ جج نے سوال کیا کہ آخر انکاونٹر میں حصہ لینے والے پولیس ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کیوں نہیں کیا گیا ؟ پولیس کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ واضح نہ ہونے کا دعوی کرکے تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ڈی جی پی آندھراپردیش کو ہدایت دی ۔ آندھراپردیش پولیس کو ہائی کورٹ کی شدید برہمی کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس سے مربوط تبدیلی میں مدراس ہائی کورٹ نے 6 مہلوکین کی نعشوں کا دوسری مرتبہ پوسٹ مارٹم کرنے کا حکم کرنے سے انکار کردیا ۔ ٹاملناڈو میں اس مسئلہ پر مختلف پارٹیوں نے سیاسی خطوط سے بالاتر ہوکر احتجاج کیا ہے ۔ آندھراپردیش سیول لبریشن کمیٹی کے سکریٹری سی چندر شیکھر نے حیدرآباد ہائی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن داخل کی تھی ۔ اس میں الزام عائد کیا تھا کہ 20 افراد کا انکاونٹر دراصل قتل کا کیس ہے یہ غریب مزدور ٹاملناڈو سے تعلق رکھتے تھے ۔ درخواست گذار کے وکیل وی رگھونات نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ دو ایف آئی آر درج کرنے کے بعد بھی ہمیں پولیس کی کارکردگی پر اطمینان نہیں ہے ۔ عدالت نے تحقیقاتی عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اس مسئلہ پر سنجیدگی سے تحقیقات کریں ۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل ڈی سرینواس نے کہا کہ عدالت کو یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ آیا اے پی پولیس نے اس کیس میں طبعی موت کا کیس درج کیا ہے ۔