ماہ رمضان کے پیش نظر ہجوم میں چوروں کا فائدہ اور خریدار آسان شکار
حیدرآباد ۔7 جولائی ( سیاست نیوز ) ۔ شہر حیدآباد میں چار مینار کے اطراف موجود بازاروں کی رونقیں ماہ رمضان میں دوبالا ہوجاتی ہیں۔ یہاں کے بازروں میں نہ صرف پرانے شہر کے لوگ خریدی کے لئے آتے ہیں بلکہ نئے شہر کے لوگ بھی یہاں خریدی کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ملک کے دیگر شہروں سمیت کئی اضلاع کے لوگ چارمینار کے اطراف کے بازاروں میں خریدی کرنے کے لئے کئی میل کی مسافت طئے کرتے ہوئے یہاں پہنچتے ہیں۔اور یہاں کی چوڑیاں اور کپڑے وغیرہ خرید کر دلی سکون حاصل کرتے ہیں۔اس کے علاوہ ملک کی کئی ریاستوں کے لوگ یہاں پر سیر وتفریح کے لئے آتے ہیں اور اس دلکش مارکٹ کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔اور یہاں سے کئی طرح کے اشیاء کی خریدی بھی کرتے ہیں۔اس علاقے کی خاص بات یہ ہے کہ چارمینار کے اطراف کے بازاروں میں معیاری اشیاء بہت کم قیمت میں مل جاتی ہے۔جبکہ دیگر علاقوں کے بازاروں میں یہی سازو سامان دوگنی قیمت میں فروخت کیا جاتاہے۔چار مینار کے اطراف میں موجود لاڈ بازار ، نیولاڈ بازار ، جلو خانہ ، گلزار حوض، پتھر گٹی ، مدینہ سرکل ، پٹیل مارکٹ، مدینہ مارکٹ اور دیگر کئی مارکٹس قائم ہیں ۔ جہاں پر عوام کو ہر ضروری اشیا ء بہ آسانی حاصل ہوجاتی ہے۔حیدآبادیوں کا کہنا ہے کہ چارمینار کے پاس خریدی کے لئے جاؤ تو ضرورت کی ہر چیز مل جاتی ہے۔یعنی انسان کی روزمرہ کی زندگی سے لیکر خاص مواقع کے لئے جو بھی سازو سامان کی ضرورت ہوتی ہے ہر وہ چیز یہاں پر دستیاب رہتی ہے۔ہزاروں کی تعداد میں موجود دکانوں کے علاوہ فٹ پاتھ پر کاروبار کرنے والے افراد بھی ہمہ اقسام کے سامان عوام کے لئے فراہم کرتے ہیں۔اس کے علاوہ ٹھیلہ بنڈی پر بھی خواتین اور بچوں کی اشیاء فروخت کیے جاتے ہیں۔چارمینار کے اطراف ماہ رمضان میں خریداروں کا ہجوم ہوتا ہے۔اور اس کا فائدہ اٹھانے کے لئے ملک کے مختلف مقامات سے چوروں کی ٹولیاں یہاں پہنچ رہی ہیں۔باوثوق ذرائع کے مطابق چوراور جیب کترے یہاں پر کچھ ساز وسامان اپنے ہاتھوں میں لیکر سڑکوں پر پھیری کرتے ہوئے فروخت کنندوں کی طرح شہر کے بازاروں میں سرگرم ہیں۔چونکہ چارمینار کے بازاروں میں عوام کا اژدھام ہوتا ہے اور چوروں کو روپے پیسے اور بھاری مالیت کے موبائیل فون وغیرہ اڑانے میں آسانی ہوتی ہے اس لئے ایسے افراد کی زیادہ تر تعداد یہاں پر پہنچ چکی ہے۔لوگ اِن پر شک نہ کریں اسلئے یہ لوگ پیدل پھرتے ہوئے ساز و سامان فروخت کرنے کی اداکاری کرتے ہوئے اپنا کام انجام دے رہیں۔ممبئی سے چارمینار دیکھنے کے لئے آئے ہوئے ایک خاندان کو اُس وقت صدمہ ہوا جب ایک خاتون کے پرس سے تقریباً 3000 روپے نقد چوری کرلئے گئے ۔لیکن عوام کی بھیڑ میں چور کو تلاش کرنا کافی مشکل تھا ۔ اس لئے اِن لوگوں نے شاپنگ ترک کرتے ہوئے اپنے مقام کو واپس چلے گئے ۔اسی طر ح کئی سیاحوں نے چارمینار پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ہے کہ اُن کے بھاری موبائیل فونس چوری کرلئے گئے ۔ایک طرف پولیس گشت کرتے ہوئے لوگوں پر نظر بنائے ہوئے ہے تو دوسری جانب سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے بھی چارمینار کے قریب کے لوگوں پر نگاہ رکھی جارہی ہے ۔ اس کے باوجود ایسی واقعات پیش آرہے ہیں۔گذشتہ ماہ چارمینار کے قریب ایک جیب کترے نے ایک ڈی آرڈی او سائنسداں کا موبائیل فون چوری کرنے کی کوشش کی تھی تاہم اُسے پکڑلیا گیا لیکن اُس نے اپنے بچاؤ کے لئے چاقو کا استعمال کرتے ہوئے حملہ کردیا ۔ اور اس حملہ میں سائنسداں زخمی ہوگیا۔چارمینار کے اطراف کے بازاروں کو آنے والے خریداروں کی حفاظت کی ذمہ داری کس کی ہے ؟ یہ ایک بڑا سوال ہے اور اس کا جواب پولیس ہی دے سکتی ہے۔اس کے علاوہ یہاں پر آنے والے خریداروں نے سڑک پر کاروبار کرنے والے اور پیدل پھیری کرنے والے افراد کو شناختی کارڈ فراہم کرنے کی بلدیہ اور پولیس سے اپیل کی ہے تاکہ ان افراد کا ایک ریکارڈ حکومت کے پاس موجود ہو اور مستقبل میں ضرورت پڑنے پر اس سے ربط کیا جاسکے ۔ یہاں پر ہر سال خریدی کرنے کے لئے آنے والے افراد نے اُن کی جان و مال کی حفاظت کے لئے پولیس کے موثر بندوبست کا انتظام کرنے کی تلنگانہ حکومت سے اپیل کی ہے۔