گودام کی حیثیت سے استعمال ، محکمہ آثار قدیمہ کی لاپرواہی کا سلسلہ جاری ، کمروں کو کھولدینے عوام کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ 14 ۔ فروری : حیدرآباد کی چارمیناروں والی مسجد چارمینار کے بارے میں ہمارے شہر کے بیشتر لوگ واقف نہیں ہیں ۔ اس مسجد میں باقاعدہ دینی مدرسہ بھی ہوا کرتا تھا لیکن سقوط حیدرآباد کے بعد دوسری منزل پر موجود انتہائی خوبصورت مسجد کو مصلیوں کے لیے بند کردیا گیا ۔ اسی طرح وہاں سے مدرسہ کے آثار بھی مٹا دئیے گئے ۔ چارمینار کا ہر مینار چار کمروں پر مشتمل ہے ۔ جب کہ نیچے اور دوسری منزل پر دو دو کمرے تعمیر کروائے گئے تھے ۔ مسجد سے متصل دو کمروں میں امام اور موذن صاحب رہا کرتے تھے ۔ اس طرح تاریخی چارمینار میں جو 20 کمرے ہیں ان میں چند کمروں کو مرکزی محکمہ آثار قدیمہ گودام کے طور پر استعمال کررہا ہے ۔ پہلے ہی اس بے حس محکمہ کی مجرمانہ غفلت کے نتیجہ میں اس تاریخی مسجد ( چارمینار ) کی ہیئت آہستہ آہستہ بدلتی جارہی ہے ۔ ان کمروں کو کوڑے دانوں کی طرح استعمال کیا جارہا ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حال ہی میں چارمینار کی داغ دوزی کا کام شروع کیا گیا ۔ اس کی عظمت رفتہ کی بحالی کے لیے اقدامات کرنے کے دعوے کئے گئے لیکن کمروں کی حالت زار کو دیکھ کر اندازہ ہی نہیں ہوتا یہ حیدرآباد کی شان و وقار کہلانے والے چارمینار کے کمرے ہیں ۔ ایک کمرہ میں اے ایس آئی کے نگران عہدہ دار کا دفتر ہے جس میں چار کرسیاں ، دو بڑے میز ایک الماری دو کمپیوٹرس ایک ایرکولر اور ایک واٹر کولر رکھے ہوئے ہیں ۔ اس سے کمروں کے حجم کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ ان کمروں میں کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں لیکن ہم بڑی مشکل سے ان کمروں میں نہ صرف داخل ہوئے بلکہ ان کی تصاویر بھی حاصل کیں ۔ حالانکہ وہاں تعینات غیر مقامی سیکوریٹی عہدہ دار اور ملازمین تصاویر لینے سے روکتے رہے ۔ چارمینار کو حیدرآباد کی شان اس کی آن ، جان اور وقار سے تعبیر کرتے ہیں لیکن اس فن تعمیر کی شاہکار بے مثال مسجد کے تحفظ پر کوئی توجہ مرکوز نہیں کرتے ۔ اس تاریخی آثار کا تحفظ بلا لحاظ مذہب و ملت رنگ و نسل ہر شہری کا فرض ہے کم از کم ان کمروں میں قطب شاہی دور کے نوادرات ، کتب رکھے
جانے چاہئے تاکہ ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو قطب شاہی حکمرانوں کی رعایا پروری خداترسی اور انسانیت نوازی کے بارے میں جاننے کا موقع مل سکے ۔ ریاستی محکمہ آثار قدیمہ اپنے بروچرس اور کتابچوں میں بار بار سیاحوں کو یہ یاد دلاتا ہے کہ چارمینار دراصل چارمیناروں والی مسجد ہے ۔ حال ہی میں ایک آر ٹی آئی جہدکار کے استفسار پر بھی اس محکمہ نے چارمینار کو تاریخی مسجد تسلیم کیا اس کے باوجود مصلیوں کے لیے اس مسجد کے دروازے بند ہیں ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ نہ صرف مسجد کے دروازے مصلیوں کے لیے کھولے جائیں بلکہ کمروں کی صفائی کرتے ہوئے انہیں عوام کے مشاہدہ کے لیے بحال کردیا جائے ۔ تاریخی کتب کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ چارمینار کے اوپری چاروں گوشوں پر چارمینار چاردریوں پر منقسم ہیں اور ہر مینار کا ارتقاع 80 فٹ ہے ۔ ساری عمارت پتھر اور گچی کی بنی ہوئی ہے ۔ جس کی خوش نما گلکاری دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔ جیسا کہ سطور بالا میں لکھا ہے کہ قطب شاہی دور میں اس کی پہلی منزل پر مدرسہ اور طلباء کا دارالاقامہ تھا دوسری منزل پر مسجد اور خزانہ آب تھا جس میں جل پلی تالاب سے پانی سربراہ کیا جاتا تھا ۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس کی تعمیر پر دو لاکھ ہون کے مصارف آئے تھے ۔ سارے عالم میں حیدرآباد کی علامت چارمینار کی تعمیر 1591 میں محمد قلی قطب شاہ نے عمل میں لائی تھی اور اس نیک دل بادشاہ کی دعاؤں کے نتیجہ میں آج بھی چارمینار اپنی پوری آن و شان کے ساتھ کھڑا ہے ۔ لیکن کچھ ناعاقبت اندیش اس کے وقار کو ٹھیس پہنچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ شہر کے بالکل وسط میں چارمینار ( چارمیناروں والی مسجد ) کی تعمیر کے بارے میں کئی ایک روایات ہیں لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس وقت 1000 ویں ہجری کی تکمیل ہورہی تھی ایسے میں 1000 سالہ ہجری کی تقاریب سارے عالم اسلام میں بڑے پیمانے پر منائی گئیں ۔ حیدرآباد دکن میں بھی تقاریب منعقد ہوئے اور 1000 ویں ہجری کی یادگار کے طور پر شہر کے بیچوں بیچ چارمیناروں والی مسجد تعمیر کی گئی ۔ بہر حال چارمینار کے ساتھ ساتھ اس کے کمروں کا تحفظ وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے ۔۔