تاریخی عمارتوں کے تحفظ میں سکریٹری بلدی نظم و نسق اروند کمار کی دلچسپی، ماتحت عہدیدار خواب غفلت میں
حیدرآباد۔17فروری(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کی تاریخی عمارتوں کے تحفظ کیلئے محکمہ بلدی نظم و نسق کے سیکریٹری مسٹر اروند کمار کی جانب سے کئے جانے والے متعدد اقدامات ان کی شہر کے تہذیبی ورثہ سے دلچسپی کو واضح کرتا ہے لیکن ان کے محکمہ کے تحت موجود بلدیاتی ادارو ںکی جانب سے کی جانے والی لا پرواہی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کی دلچسپیوں اور شہر کے تاریخی ورثہ سے ان کے ماتحت عہدیداروں کو کوئی دلچسپی نہیں ہے اور نہ ہی عہدیداروں کو اس بات کی کوئی پرواہ ہے کہ تاریخی عمارتوں کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کی جانے والی غیر مجاز عمارتوں سے تاریخی عمارتوں کی صورتحال کیا ہوگی!شہر حیدرآباد کی تاریخی عمارتوں کے قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تاریخی چارمینار‘ مکہ مسجد اور چارکمان کے اطراف جاری تعمیرات پر بلدی عہدیداروں کی خاموشی اور محکمہ بلدی نظم و نسق کی جانب سے شہر کے تاریخی کلاک ٹاؤرس کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کے اقدامات دو ایسے متضاد معاملات بن چکے ہیں کہ عوام بھی ان کا مذاق اڑا رہے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ شہر حیدرآباد کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کا دکھاوا کرتے ہوئے شہر میں موجود تاریخی عمارتوں کے قوانین کی دھجیاں اڑانے کا موقع فراہم کیا جا رہاہے اور جو لوگ تاریخی عمارتوں کی اہمیت کو گھٹانے والی ان تعمیرات کے مرتکب ہیں انہیں مکمل سیاسی سرپرستی حاصل ہونے کے سبب ان کے خلاف بلدی عہدیداروں کی جانب سے کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی ہے بلکہ ان تعمیرات کے خلاف خاموشی اختیار کرتے ہوئے یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ ایسا کرنا کوئی غیر قانونی عمل نہیں ہے ۔ تاریخی چارمینار کے اطراف جاری ان غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کوئی آواز اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہے بلکہ ان غیر قانونی تعمیرات کو سیاسی سرپرستی حاصل ہونے کے سبب انہیں روکنے اور ان کے خلاف شکایت کرنے سے بھی شہری گریز کر رہے ہیں ۔ تاجرین لاڈ بازار کے علاوہ مہاجرین کیمپ اور کمان سحر باطل کے اطراف کے تاجرین کا کہنا ہے کہ ان سرگرمیوں پر وہ متعدد مرتبہ شکایات کرچکے ہیں لیکن کچھ وقت کیلئے تعمیری سرگرمیاں روک دی جاتی ہیں اور دوبارہ عہدیداروں کی نگرانی میں تعمیری سرگرمیاں انجام دی جانے لگتی ہیں لیکن ان غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کوئی سخت کاروائی نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے ان تعمیرات کو انجام دینے والوں کے حوصلے بڑھتے چلے جاتے ہیں اور وہ نہ صرف تاریخی عمارتوں کے اطراف ممنوعہ حدود میں تعمیرات انجام دیتے ہیں بلکہ تاریخی و تہذیبی ورثہ کو نقصان پہنچاتے ہوئے یہ سرگرمیاں انجام دینے لگتے ہیں ۔ مقامی عوام نے سیکریٹری محکمہ بلدی نظم و نسق مسٹر اروند کمار کے علاوہ کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد مسٹر دانا کشور کے علاوہ دیگر عہدیداروں سے خواہش کی ہے کہ وہ چار مینار پیدل راہرو پراجکٹ کے ساتھ ساتھ چارمینار اور دیگر تاریخی عمارتوں کے ممنوعہ حدود میں جاری تعمیرات کا بھی جائزہ لینے کیلئے وقت نکالیں تاکہ انہیں اس بات کا اندازہ ہوکہ مقامی بلدی عہدیداروں کی خاموشی کے سبب تاریخی عمارتوں کی حالت کس حد تک ابتر ہوتی جا رہی ہے۔