پی ڈی پی۔ بی جے پی حکومت میں اختلافات

علحدگی پسند لیڈر کی رہائی پر تنازعہ
جموں ؍ سرینگر۔ 8 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر میں سخت گیر علیحدگی پسند لیڈر مسرت عالم کی رہائی کے مسئلہ پر ایک ہفتہ قبل قائم شدہ پی ڈی پی ۔ بی جے پی مخلوط حکومت میں پیدا شدہ شدید اختلافات آج منظر عام پر آگئے۔ زعفرانی جماعت (بی جے پی) نے حلیف پی ڈی پی کے زیرقیادت مفتی سعید حکومت کے ’یکطرفہ‘ فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات برداشت نہیں کئے جائیں گے۔ بی جے پی نے کہا کہ یہ فیصلہ اقل ترین مشترکہ پروگرام کا حصہ نہیں ہے جس کی بنیاد پر جموں و کشمیر میں یہ حکومت چلائی جارہی ہے، لیکن پی ڈی پی نے بی جے پی کے اس موقف سے اختلاف کیا ہے اور اصرار کیا کہ یہ فیصلہ اقل ترین مشترکہ پروگرام (سی ایم پی) کا حصہ ہے۔

بی جے پی کے ریاستی صدر اور رکن پارلیمنٹ جگل کشور شرما نے کہا کہ اس فیصلہ سے قبل حتی کہ ان کی پارٹی سے مشاورت بھی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ پر غوروبحث کے لئے بی جے پی قائدین کا اجلاس منعقد ہوا اور ان کی پارٹی اس فیصلہ پر پی ڈی پی قیادت سے اپنی ناخوشی کے اظہار کے ساتھ اتحاد کے اُصولوں کی پابندی کی خواہش کرے گی۔ علیحدگی پسند مسرت عالم کی رہائی پر پیدا شدہ تنازعہ کے بارے میں جگل کشور شرما نے کہا کہ چیف منسٹر مفتی محمد سعید کا ’یکطرفہ فیصلہ‘، ’انتہائی سنگین‘ ہے اور اس سے ان کی پارٹی (بی جے پی) کو سخت تکلیف پہونچی ہے۔ جگل کشور نے کہا کہ عالم کی رہائی کے فیصلہ سے قبل مفتی سعید نے اتحادی حلیف بی جے پی کو اعتماد میں نہیں لیا۔ انہوں نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ ’’ہمیں ان کی رہائی کے بارے میں پہلے کوئی علم یا اطلاع نہیں تھی۔ یہ ہمارا فیصلہ نہیں ہے اور ہم اس کی اجازت نہیں دیئے تھے‘‘۔

جگل کشور نے مزید کہا کہ ’’ہم ایسے کسی بھی بیان یا فیصلہ کو برداشت نہیں کریں گے جو ہمارے متفقہ اقل ترین مشترکہ پروگرام کے مطابق نہیں ہوگا۔ ہم نے اس مسئلہ پر ہمارے حلیف سے اپنی ناخوشی کے اظہار کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کا اعادہ نہ ہوسکے‘‘۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ یہ مسئلہ مشترکہ اقل ترین پروگرام میں شام نہیں تھا۔ دوسری طرف پی ڈی پی کے ترجمان اور وزیراعظم نعیم اختر نے اصرار کیا کہ یہ فیصلہ مشترکہ اقل ترین پروگرام کے مطابق جو دراصل ریاست اور لائن آف کنٹرول کے اس پار کے تمام فریقوں کو جموں و کشمیر میں امن کے قیام کی کوششوں کے طور پر بات چیت میں شامل کرنے کے مقصد پر مبنی ہے۔ نعیم اختر نے کہا کہ ’’یہ (عالم کی رہائی) صحیح اور مناسب تناظر میں دیکھی جائے۔ یہ اس ریاست میں امن کے مقصد سے بات چیت اور مصالحت کیلئے ریاست اور لائن آف کنٹرول کے آس پار کے تمام فریقوں کو شامل کرنے سے متعلق ہمارے مشترکہ اقل ترین پروگرام کا ایک اہم حصہ ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اگر آپ تمام متعلقہ فریقوں سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں جن میں یہ قائدین بھی شامل ہیں۔ آپ انہیں کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر جیلوں رکھتے ہوئے مذاکرات میں شامل نہیں کرسکتے‘‘۔ اختر نے کہا کہ بعض قائدین کی گرفتاریوں پر عدالتی نے مداخلت کی اور انہیں رہا کیا۔

پی ڈی پی کے دوسرے سینئر لیڈر اور وزیر سائنس و ٹیکنالوجی عمران انصاری نے دعویٰ کیا کہ عالم کی رہائی کے حکم پر عمل آوری کے معاملہ میں بی جے پی بھی پی ڈی پی کے ساتھ تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں نہیں سمجھتا کہ بی جے پی کو کوئی اندیشے ہیں، وہ ہمارے ساتھ ہے۔ ہمارے ایک مخلوط حکومت ہے۔ عدالت نے انہیں (مسرت عالم کو) رہا کیا ہے اور وزارت داخلہ نے اس حکم پر تعمیل کی ہے۔ جگل کشور نے کہا کہ عالم جیسے افراد کو رہا نہیں کیا جانا چاہئے، ہند دشمن زہر افشانی کرتے ہیں اور علیحدگی کے نعرے لگاتے ہیں۔ بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی رویندر رائنا نے کہا کہ ان کی پارٹی ملک کی توہین برداشت نہیں کرے گی۔ مسرت عالم ایک خوفناک دہشت گرد ہے اور قوم و ملک کے فخر کیلئے ہم ایسی ہزار حکومتیں قربان کرنے کیلئے تیار ہیں، لیکن اس مسئلہ پر شدید اختلافات کے باوجود ریاستی بی جے پی کے صدر جگل کشور شرما نے اس یقین کا اظہار کیا کہ مخلوط حکومت اپنی چھ سالہ میعاد مکمل کرے گی۔ جگل کشور نے کہا کہ فی الحال مفتی سعید حکومت کی تائید سے بی جے پی کی دستبرداری کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

مرکزی وزارت داخلہ نے رپورٹ طلب کی
نئی دہلی ۔ /8 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزارت داخلہ نے علحدگی پسند لیڈر مسرت عالم کی رہائی کے اسباب و علل کے بارے میں جموں وکشمیر حکومت سے رپورٹ طلب کی ہے ۔ آج اتوار ہونے کے باوجود وزارت داخلہ میں کشمیر ڈیویژن کے عہدیداروں نے مقررہ وقت سے زیادہ دیر تک کام کیا اور اس مسئلہ پر ریاستی حکومت سے تمام حقائق معلوم کرنے کی کوشش کی ۔ وزارت داخلہ نے یہ جاننا چاہا کہ آخر وہ کونسی وجوہات ہے جن کی بنا مسرت عالم کو رہا کرنے کا حکومت جموں و کشمیر نے فیصلہ کیا ہے ۔