ناگپور 4 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر نتن گڈکری نے کسی کی طرف سے اپنی تجاویز قبول نہ کئے جانے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ایک اور انوکھی تجویز پیش کی اور کہاکہ ’پیشاب سے یوریا بنایا جائے‘۔ ناگپور میونسپل کارپوریشن کے میئرس اختراعی ایوارڈس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گڈکری نے کہاکہ اگر ایسا کیا جاتا تو ہندوستان کو یوریا درآمد کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایجاد و اختراع کی اہمیت بیان کرتے ہوئے اُنھوں نے قدرتی اشیاء پر مبنی کچرے سے قدرتی ایندھن کی نکاسی کی مثال دی۔ اُنھوں نے کہاکہ بائیو فیول کی تیاری کے لئے انسانی پیشاب بھی فائدہ بخش ثابت ہوسکتا ہے۔ اس میں امونیم سلفیٹ اور نائٹروجن رہتا ہے۔ گڈکری نے کہاکہ ’مَیں نے تمام ایرپورٹس پر پیشاب جمع کرنے کے لئے کہا تھا۔ ہم یوریا درآمد کرتے ہیں۔ اگر ہم سارے ملک میں پیشاب جمع کریں تو ہمیں یوریا درآمد کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس (پیشاب) میں اتنی خصوصیات ہیں کہ اس کو ضائع نہیں کیا جاسکتا۔ گڈکری نے مزید کہاکہ ’حتیٰ کہ (میونسپل) کارپوریشن سے بھی کوئی مدد نہیں ملے گی۔ کیوں کہ حکومت میں اکثر افراد کی ان بیلوں جیسی تربیت ہوتی ہے جو اِدھر اُدھر دیکھے بغیر دیوانہ وار بھاگتے ہیں۔ چند سال قبل گڈکری نے یہ کہتے ہوئے سب کو حیرت میں ڈال دیا تھا کہ دہلی میں واقع سرکاری بنگلہ میں وہ خود اپنا پیشاب جمع کرتے ہیں اور بطور کھاد باغیچہ میں ڈالتے ہیں۔