پیروں سے معذور خاتون کو وزیر جگدیشور ریڈی کی جھڑکیاں

حیدرآباد /21 اپریل (سیاست نیوز) شدت کی گرمی میں دونوں پیروں سے معذور خاتون 100 کیلو میٹر کا طویل سفر طئے کرکے حیدرآباد پہونچتی ہے ‘ سیکریٹریٹ میں تمام رکاوٹوں کو دور کرکے جب وہ اندر پہونچتی ہے اور اپنے ہی ضلع سے تعلق رکھنے والے ریاستی وزیر سے اس کی فریاد رجوع کی جاتی ہے تو اس کی معذوری اور خاتون ہونے کا خیال کئے بغیر ریاستی وزیر اسے جھڑک دیتے ہیں۔ یہ تلنگانہ کابینہ کے ایک ذمہ دار وزیر جگدیشور ریڈی کا طرز عمل ہے جنہوں نے اپنے ہی ضلع سے تعلق رکھنے والی معذور خاتون تک کو نہیں بخشا اور اسے اپنی فریاد لے کر حیدرآباد آنے پر جھڑک دیا اور کہا کہ لوگوں نے اپنے مسائل کی یکسوئی کیلئے حیدرآباد آنا فیشن بنالیا ہے ۔ انہوں نے خاتون کو جھڑک کر مشورہ دیا کہ وہ اپنے آبائی مقام پر ہی پولیس میں شکایت درج کرواتے ہوئے اپنے مسئلہ کی یکسوئی کرلے ۔ تفصیلات کے بموجب دونوں پیروں سے معذور ہونے کے باوجود مشقت کرنے والی خاتون رما دیوی راجیو ودیا مشن میں کام کرتی ہیں۔ انہوں نے اپنے ساتھ ہوئی نا انصافیوں اور عہدیداروں کی ہراسانی و دور دراز علاقہ میں تبادلہ کی دھمکیوں پر چیف منسٹر سے نمائندگی کا فیصلہ کیا

اور سیکریٹریٹ پہونچیں۔ اس وقت اتفاق یس وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ کا وہاں سے گذر ہوا ۔ خاتون نے کے ٹی آر سے اپنا مسئلہ رجوع کرنے کی کوشش کی ۔ کے ٹی آر اس کی سماعت کر رہے تھے کہ جگدیشور ریڈی وہاں پہونچے ۔ کے ٹی آر نے ان سے کہا کہ یہ ان کے ضلع ( نلگنڈہ ) کا مسئلہ ہے اسلئے وہ اس کی یکسوئی کریں۔جب خاتون نے جگدیشور ریڈی کو اپنا مسئلہ سنانے کی کوشش کی تو جگدیشور ریڈی ہتھے سے اکھڑ گئے اور معذور خاتون کو عملا جھڑکیاں دیتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں نے حیدرآباد آنا فیشن بنالیا ہے ۔ جگدیشور ریڈی نے خاتون کے مسئلہ کی مناسب انداز میں سماعت کئے بغیر ہی اسے مشورہ دیا کہ وہ اپنے مسئلہ کو آبائی مقام پر ہی پولیس میں شکایت درج کرتے ہوئے یکسوئی کرلے ۔ اس موقع پر تاہم کے ٹی راما راؤ نے مداخلت کی اور انہوں نے خاتون کو تسلی اور دلاسہ دیتے ہوئے اسے تیقن دیا کہ اس کے مسئلہ کی یکسوئی کی کوشش کی جائیگی ۔ انہوں نے حیدرآباد سے نلگنڈہ جانے کیلئے اس خاتون کو 1500 روپئے اپنی جانب سے بھی دئے ۔