نئی دہلی 14 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ملک کی گیارہ ریاستوں کے 54 اضلاع میں پکوان گیس صارفین کو سبسڈی حاصل ہوگی تاکہ وہ پکوان گیس بازار کی قیمتوں پر حاصل کرسکیں۔ اس اسکیم پرکل ہفتے سے عمل آوری کا آغاز ہونے والا ہے ۔ گیس صارفین کو راست سبسڈی فراہم کرنے کی اسکیم کا گذشتہ یو پی اے حکومت نے آغاز کیا تھا تاہم جاریہ سال کے اوائل میں اسے اچانک روک دیا گیا تھا کیونکہ اس سلسلہ میں عدالتی احکام جاری کئے گئے تھے تاہم موجودہ این ڈی اے حکومت نے اس میں ترمیم کی ہے اور اس نے آدھار کو اس اسکیم سے غیر مربوط کردیا ہے تاکہ صارفین کو راست نقد سبسڈی حاصل ہوسکے ۔
ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ راست فائدہ منتقلی اسکیم برائے پکوان گیس کا یکم جون 2013 سے آغاز کیا گیا تھا اور اس میں جملہ 291 اضلاع کا احاطہ کیا گیا تھا ۔ اس میں صارفین کیلئے ضروری تھا کہ وہ آدھار نمبر فراہم کرتے تاکہ سبسڈی حاصل ہوسکے ۔ تاہم اب حکومت نے اس اسکیم کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اور صارفین کو پیش آنے والی مشکلات کو دیکھتے ہوئے اسکیم میں تبدیلی کی گئی ہے اور اب اس کا دوبارہ آغاز کیا جارہا ہے ۔ اس اسکیم کے پہلے مرحلہ کا 15 نومبر 2014 سے آغاز ہو رہا ہے
اور اس کے تحت ملک کی گیارہ ریاستوں میں 54 اضلاع کا احاطہ کیا جائیگا اور مابقی ملک بھر میں یکم جنوری 2015 سے اس کا آغاز ہوگا ۔ اس اسکیم کے تحت پکوان گیس صارفین کو ان کے بینک اکاؤنٹس میں ہی سبسڈی فراہم کردی جائیگی تاکہ وہ مارکٹ کی قیمتوں پر پکوان گیس سلینڈرس حاصل کرسکیں۔ کہا گیا ہے کہ سلینڈر کی سبسڈی والی قیمت اور مارکٹ قیمت میں جو فرق ہے اس فرق کی رقم جیسے ہی صارفین کی جانب سے اس اسکیم میں شمولیت کے بعد گیس بک کی جائیگی اسی وقت اکاؤنٹ میں منتقل کردی جائیگی ۔ صارف کی جانب سے اس رقم کے استعمال کے ذریعہ سلینڈر حاصل کرنے کے فوری بعد آئندہ سلینڈر کیلئے اڈوانس سبسڈی رقم بھی اکاؤنٹ میں منتقل کردی جائیگی ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جو صارفین اس اسکیم میں پہلے ہی شمولیت اختیار کرچکے تھے انہیں مزید کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ انہیں صرف کیش ٹرانسفر کمپلینٹ کا موقف دیکھنا چاہئے ۔ یہ موقف www.MyLPG.in ویب سائیٹ پر دیکھا جاسکتا ہے ۔