واشنگٹن ؍ براسیلیا 17 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) اعلیٰ سطحی امریکی عہدیداروں نے وزیراعظم نریندر مودی کے سارک ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے اقدامات کی ستائش کی۔ جن میں نامور جنوبی ایشیاء کے ماہرین اور ارکان مقننہ شامل تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ مودی نے ہندوستان کے اپنے پڑوسیوں بشمول پاکستان کے ساتھ تعلقات کے استحکام سے مستحکم وابستگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے جب وزیراعظم نریندر مودی کو دورۂ پاکستان کی دعوت دی اور جنوبی ایشیاء کے قائدین کی اسوسی ایشن سارک نے ہندوستان کے ساتھ قریبی تعلقات کے استحکام کی خواہش ظاہر کی تو نائب وزیر خارجہ امریکہ برائے جنوبی و وسطی ایشیاء نشا دیسائی بسوال نے امریکی ارکان مقننہ سے کہاکہ امریکی کانگریس کے ایک اجلاس میں خوشخبری سنائی گئی کہ ہندوستان اپنے علاقہ کے تمام ممالک سے تعلقات مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ اوباما نظم و نسق کے ایک سابق عہدیدار وکرم سنگھ نے کہاکہ مودی نے اب تک بین الاقوامی اُمور کے سلسلہ میں مثبت رویہ اختیار کیا ہے۔ جس کا آغاز ہندوستان کے تمام پڑوسی ممالک بشمول پاکستان کے سربراہوں کو حلف برداری تقریب میں شرکت کی دعوت دینا تھا۔ سابق امریکی سفیر برائے ہندوستان فرینک جی وزنر نے کہاکہ نریندر مودی نے وزیراعظم پاکستان سے بھی بات چیت کا آغاز کیا ہے۔ امریکی سنیٹ کے اجلاس میں ارکان سنیٹ بشمول جان میک کین نے حکومت ہند کی سارک ممالک کے بارے میں پہل کی ستائش کی۔ براسیلیا سے موصولہ اطلاع کے بموجب وزیراعظم نریندر مودی نے کہاکہ ہندوستان وسائل کی دولت سے مالا مال لاطینی امریکہ کے ممالک کے ساتھ زیادہ قریبی تعاون سے کام کرے گا اور تعاون کے نئے مواقع کھولنے پر انحصار کرے گا۔ اُنھوں نے جنوبی امریکہ کے قائدین سے ملاقات کے دوران اُنھیں تیقن دیا کہ ہندوستان جنوبی امریکہ سے پہلے سے بھی زیادہ قریبی تعاون کرے گا۔ بریکس کے رکن کی حیثیت سے، G-77 میں اور دیگر بین الاقوامی فورمس میں جنوبی امریکی ممالک سے گہرا تعاون کیا جائے گا۔ اُن سے ملاقات کرنے والوں میں برازیل کی صدر ڈیلما روزیف بھی شامل تھیں۔ مودی نے کہاکہ وہ اپنی خلائی صلاحیتوں، موسم کی پیش قیاسی، وسائل کی نقشہ کشی اور آفات سماوی سے نمٹنے کی صلاحیتوں میں جنوبی امریکہ کے ممالک کو شامل کرنے کے منتظر ہیں۔ ہندوستان اور جنوبی امریکہ کے درمیان آئندہ برسوں میں تمام شعبوں میں گہرا تعاون کیا جائے گا۔