پچاس فیصد فرانسیسی‘ پیغمبر اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے مخالف

پیرس۔18جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) فرانس میں آج کئے گئے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق 50فیصد سے زائد فرانسیسی عوام نے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے خاکوں کی تیاری اور اشاعت کی مخالفت کی ہے ‘اس دوران چارلی ہیبڈو پر حملہ اور 12افراد کی ہلاکتوں کے پیش نظر اظہار خیال کی آزادی پر جاری عالمی بحث مزید شدت اختیار کرچکی ہے ۔ ’’ آٹپوف‘‘ پول کے مطابق 42 فیصد عوام کا ایقان ہے کہ اس قسم کے خاکوں کو اکثر مسلمان اپنے دین کی اہانت تصور کرتے ہیں ۔ چنانچہ ایسے خاکے شائع نہیں کئے جانے چاہیئے ۔ تاہم 57فیصد عوام نے کہا کہ مسلمانوں کی مخالفت ان خاکوں کی اشاعت کو نہیں روک سکتی ۔ لاجرنلدودیمانچی کے مطابق 81فیصد عوام نے سرزمین فرانس پر دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث دہری شہریت کے حامل افراد کو فرانسیسی شہریت سے محروم کردینے کی تائید کی ۔ 68فیصد افراد نے دہشت گردوں کے زیرکنٹرول علاقوں یا ممالک جیسے شام وغیرہ کو لڑائی کے لئے جانے کے ضمن میں مشتبہ فرانسیسی شہریوں کی ملک واپسی پر امتناع عائد کرنے کی تائید کی ۔ 68فیصد افراد نے جہادی سرگرمیوں میں شمولیت کی خواہش کے ساتھ فرانس سے روانہ ہونے والے مشتبہ افراد کے سفر پر پابندی عائد کرنے پر زور دیا ۔

57 فیصد فرانسیسیوں نے لیبیا ‘ شام ‘ یمن اور دیگر ممالک میں فرانس کی فوجی مداخلت کی مخالفت بھی کی ۔ واضح رہے کہ طنزیہ کارٹونس پر مبنی میگزین چارلی ہیبڈو کے دفتر پر اسلام پسند بندوق برداروں نے اندھا دھند فائرنگ میں 12افراد کو ہلاک کردیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ اس میگزین میں وقفہ وقفہ سے اہانت آمیز کارٹونس کی اشاعت سے مسلمانوں کی دل آزاری کا انتقام لینے کیلئے یہ حملہ کیا گیا تھا ۔ گستاخانہ کارٹونس کی اشاعت کے خلاف دنیا کے کئی حصوں میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں ۔ افریقی ملک نائیجریا میں گذشتہ روز مظاہروں کے دوران احتجاجیوں نے عیسائیوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا ۔ سات گرجا گھروں کو ندرآتش کردیا گیا۔فلپائن ‘ انڈونیشیاء ‘ پاکستان ‘ افغانستان اور دیگر ممالک میں بھی اس گستاخی کے خلاف مسلمانوںکے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔