پٹنہ میں قاضیوں کا قابل تقلید اقدام

جہیز لینے اور دینے والوں کا نکاح نہ کرانے کا فیصلہ : سماجی بہتری کی سمت پیشرفت
پٹنہ۔5جنور ی(سیاست ڈاٹ کام ) جہیز اور لین دین کے خلاف مہم کے اثرات معاشرہ میں ثمر آور ثابت ہورہے ہیں ‘ چنانچہ بہار کے ایک ضلع میں قاضیوںنے فیصلہ کیا ہے کہ وہ جہیز یا لین دین کے حامل رشتہ طئے ہونے کی صورت میں نکاح نہیں کرائیں گے۔ ضلع نالندہ میں امارات شرعیہ بہار شریف کے سربراہ قاضی مولانا منصور عالم نے بتایا کہ کل منعقدہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ضلع نالندہ میں قاضی ایسا کوئی نکاح نہیں کرائیں گے جس میں جہیز لیا یا دیا جارہا ہو ۔ انہوں نے کہا کہ جہیز کی حوصلہ شکنی اور عوامی بیداری کی سمت یہ ایک تاریخی قدم ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ جہیز لینے والوں کیلئے انتباہ اور ساتھ ہی ساتھ ایک طرح کا سماجی بائیکاٹ بھی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ نالندہ میں اس پروگرام میں کامیاب عمل آوری کی صورت میں بہار کے تمام اضلاع میں اسے وسعت دی جائیگی ۔ مسلم سماج میں اس کا خیرمقدم کیا گیا اور ایک مثبت پیشرفت قرار دیا گیا ہے ۔

پٹنہ میں واقع ایک مسلم تنظیم ادارہ شرعیہ کے سربراہ غلام رسول بلیاوی نے کہاہے کہ جہیز کے بڑھتے واقعات کو روکنے کی سمت یہ مثبت قدم ہے اور ساتھ ہی اس سے سماج میں بیداری پیدا ہوگی ۔ وہ اس فیصلہ کی ستائش و تائید کرتے ہیں ۔ ایک اور سماجی کارکن جن کا تعلق ضلع ’گیا‘ سے ہے کہا کہ کم از کم مسلمانوں میں اب جہیز کے خلاف آواز اٹھائی جارہی ہے۔ ریلوے کے ایک سابق عہدیدار شفیع اللہ خان نے کہا کہ اسلام میں جہیز کا تصور ہی نہیں ہے لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ مسلمان اس لعنت میں مبتلا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صرف اسلام ہی ایسا مذہب ہے جہاں شادی کے موقع پر لڑکا ہونے والی دلہن کو مہر کی رقم ادا کرتا ہے ۔ یہ دراصل ایک اس بات کا اظہار ہیکہ لڑکا مستقبل میں اپنی بیوی کے اخراجات پورے کریگا ۔ ایک اور سماجی کارکن ارشادالحق نے کہا کہ مسلمانوں میں جہیز کا بڑھتا رجحان آج ایک چیالنج بن گیا ہے ‘ اب یہ صرف ہندو سماج کی لعنت نہیں رہی بلکہ مسلم سماج میں سرایت کرگئی ہے ۔