پٹرول پمپ کی طرح مچھلی فروشوں کے خلاف بھی کارروائی کرنے محکمہ اوزان سے مطالبہ

ناپ تول میں دھوکہ دہی’’پکا وزن ‘‘ کے نام پر کھلے عام زائدرقم کی وصولی ،نقلی بٹ سے عوام پریشان

حیدرآباد13مارچ (سیاست نیوز) آپ اسے بے ایمانی کا بڑھتا رجحان کہئے یا محکمہ اوزان و پیمائش کی لا پرواہی ،کہ جس کی وجہ سے ناپ تول میں کمی کے دھندے میں دن بدن اضافہ ہی درج کیا جارہاہے۔ویسے تو خور دونوش کی تقریباً تمام اشیا ء کی فروخت میںیہ صورت حا ل دیکھی جاسکتی ہے تاہم آج یہاں صر ف مچھلی فروشوںکی کار ستانیوں سے عوام کو آگاہ کیا جارہا ہے جس سے انہیں مالی نقصانات کا سامناکرنا پڑرہاہے۔مقامی ذرائع کے مطابق ، مچھلی فروشوں کی اکثریت ، تول میں کمی کا مرتکب ہورہی ہے ،اورخرید ار کی جانب سے اسکی نشاندہی کرنے پر الٹا ان سے بحث و تکرار شروع کردی جاتی ہے،حتی کہ وہ کھلے لفظوں میں گاہک کو یہ کہتے ہوئے نظرآتے ہیں کہ ’’ لینا ہے تولوو رنہ تمہاری مرضی ،کہیںاور سے لے لو ‘‘۔ آپ اس حقیت کا اندازہ اپنے طور پربھی لگاسکتے ہیں،وہ اس طرح کہ ریٹ پوچھنے کے بعد (بغیر چکائے)آپ ان سے کہیںکہ ہمارے کو پکاوزن ہونا،ریٹ کوئی مسئلہ نہیں صرف سہی سہی تو ل کے دو…اگراسے یقین ہوگیا کہ آپ گاہک ہی ہیں اور سنجیدگی سے یہ بات کہہ رہے ہیںتو وہ ریٹ ایک روپے بھی کم نہیں کریگا اوراسکے بعد یاتو بوریئے کے نیچے رکھے اصلی بٹ سے تول کردیگا یا پھر بٹ تبدیل کئے بغیراس قدر جھکتا تولے گا جو اسکے اندازے کے مطابق سہی وزن کے برابر ہوگاتاہم چکانے کی صورت میں وہ سوفیصدی نقلی بٹ کے ذریعہ یا ڈنڈی مارتے ہوئے ڈھائی تا تین سوگرام تول میں کمی کے ساتھ آپکے ریٹ کے حساب سے دیگا۔اگرچہ یہ صورت حال مچھلی مارکٹ بیگم بازار میںبھی ہے

تاہم بتا یا جاتا ہے کہ فلک نما ریتو بازار کے سامنے یہ صورت حال کافی سنگین ہے جہاںمچھلی فروخت کرنے والے مچھلی فروش اور ادرک لہسن فروخت کرنے والے افراد بے خوف ڈنڈی مارنے میںملوث ہیں ۔ یہاں موجود گاہکوں نے سیاست کو بتا یا کہ ڈنڈی مارنے میں ماہر اور شاطر مچھلی فروشوں کے پاس دوقسم کے بٹ رکھے ہوتے ہیں جس میں ایک نقلی بٹ ہو تا ہے ،اگر چہ شکل وشباہت اور جسامت کے لحاظ سے یہ بالکل اصلی بٹ کی طرح نظر آتاہے تاہم وزن کے مقابلے میں یہ اصلی بٹ سے کافی کم ہوتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق عام طور پر مچھلی فروش اس طرح تو لتے ہیں کہ ترازوں جھکتا ہوا نظر آتاہے ،اور مچھلی اگر زندہ ہوتو اسکے تڑپنے کی وجہ سے یہ جھکاؤ اورزیادہ محسوس ہوتاہے مگر گھر جاکر دیکھنے پردو کیلو مچھلی دیڑ ھ تا پونے دو کیلو ہی موجود ہوتی ہے۔انکا کہنا کہ یہ لوگ ڈنڈی مارنے میں اس قدر ماہر ہوتے ہیں کہ عام آدمی کیلئے اسے پکڑنا کافی مشکل ہے،لہذا اس معاملے کاآسان حل یہ ہے کہ محکمہ اوزان و پیمائش کی جانب سے تمام مچھلی فروشوںکو الیکٹرانک ترازو استعمال کرنے پر مجبور کیا جائے ۔ عام طور پریہ دیکھا گیا ہے کہ گاہک جلدی میں ہوتے ہیںاورجلدی جلدی میں سامان لے کر چلے جاتے ہیں اوراسطرح لوگوںکی جلدبازی کا ایسے افراد فائدہ اٹھا لیتے ہیں ۔باوثوق ذرائع کے مطابق، اصلی بٹ کی قیمت عام طور پر سو دو سو کے اندر ہی ہوتی ہے مگر یہ لوگ مہنگی قیمت میں نقلی بٹ حاصل کرتے ہیں اور گاہک کی آنکھوں میں دھول جھونک کر انہیں چونا لگاتے رہتے ہیں۔بتا یا جاتاہے کہ فلک نما ریتو بازارکے سامنے مچھلی کے ساتھ ساتھ، ادرک لہسن ،پیاز ،اور ترکاریاںفروخت کرنے والے ا فراد بھی اسی قسم کے بٹس استعمال کررہے ہیں،جس سے عوام کو کافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ اس لئے عوام کا پرزور مطالبہ ہے کہ کسی بھی طرح ان افراد کو الیکٹرانک ترازو استعمال کرنے پر مجبور کیا جائے(اگرچہ اس میں بھی چھڑچھاڑ کی شکایت موصول ہوئی ہے پھر بھی یہ نسبتاً بہتر ہے) تاکہ عوام کسی حد تک نقصانات سے محفوظ رہ سکیں۔