پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ،عوام سے 11لاکھ کروڑکی ’لوٹ‘: کانگریس

نئی دہلی 10ستمبر (سیاست ڈاٹ کام ) پٹرولیم اور صارفین کی اشیا کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کے خلاف کانگریس صدر راہل گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن پارٹیوں کی ریلی کے ساتھ بھارت بند کی شروعات ہوئی۔کانگریس نے پٹرولیم اور عام صارفین کی اشیا کی آسمان چھوتی قیمتوں اور امریکی ڈالر کے مقابلہ میں روپے کی ریکارڈ کمی کے خلاف بھارت بندکا اعلان کیا ہے ۔ بند کو 21 سیاسی پارٹیوں نے اپنی حمایت دی ہے ۔مسٹر گاندھی نے دہلی میں راج گھاٹ سے رام لیلا میدان تک اپوزیشن پارٹیوں کی ریلی کی قیادت کر رہے ہیں۔وہ کیلاش مانسروور کی یاتراسے آج صبح ہی لوٹے ہیں. اس سے پہلے انہوں نے دوسری اپوزیشن ج پارٹیوں کے لیڈروں کے ساتھ راج گھاٹ پر گاندھی جی کی سمادھی پر گلہائے عقیدت پیش کئے ۔ باپو کی سمادھی پر گلہائے عقیدت پیش کرنے والے لیڈروں میں کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد، اشوک گہلوت، احمد پٹیل،آنند شرما اور رندیپ سرجے والا کے ساتھ ہی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے طارق انور، راشٹریہ جنتا دل کے جے پرکاش نارائن یادو، آرایس ڈی کے این کے پریم چندرن سمیت کئی لیڈر شامل تھے ۔کانگریس نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کو عوام سے 11 لاکھ کروڑ کی ’لوٹ‘قرار دیا ہے جسے پیٹرولیم مصنوعات پر ایکسائز ٹیکس کے نام پر وصول کیا جا رہا ہے ۔کانگریس پٹرول اور ڈیزل کو گدز اینڈ سروس ٹیکس (جی ایس ٹی) کے دائرے میں لائے جانے کی بھی مانگ کر رہی ہے ۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ایسا کئے جانے سے ان کی قیمتوں میں کم از کم 15 روپے فی لیٹر کی کمی آئے گی۔