پولینڈ کے عوام کی ’’ایک دن بغیر سیل فون‘‘ مہم میں پُرجوش شرکت

وارسا ۔ 16 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) پولینڈ کی عوام نے ’’ایک دن بغیر سیل فون‘‘ مہم میں اتوار کو حصہ لیا جس میں عوام کو اس بات کی جانب توجہ مبذول کروانے میں کامیابی حاصل ہوئی کہ وہ ایک دن بغیر سیل فون کے گزاریں جس میں وہ اپنے دوستوں ؍ ساتھیوں اور عزیزواقارب سے تعلقات استوار کریں۔ یاد رہیکہ اس مہم کا چند سال قبل سماجی رابطوں اور تعلقات استوار کرنے کے مقصد سے آغاز کیا گیا تھا اور انہیں انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس سے دور رکھنا مقصد تھا۔ مرکزی محکمہ شماریات کے تحت جاری کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق 92 فیصد سیل فونس گذشتہ سال استعمال کئے جارہے تھے جس میں 57 فیصد ’’اسمارٹ فونس‘‘ شامل ہیں۔ یونیورسٹی طالب علم اگنیزکا نے کہا کہ ’’میں‘‘ ہر چند منٹ بعد، اپنے دوستوں کو فون پر چیک کرتا ہوں اور سوشیل میڈیا پر نیوز بھی چیک کرتا رہتا ہوں جس کی وجہ سے میں، بغیر سیل فون کے نہیں رہ سکتا۔ ایک مطالعہ میں یہ بات پائی گئی کہ پولینڈ میں تعلیمی اداروں میں اسباق کی تفہیم کے دوران، خاندان کے ساتھ مل بیٹھ کر کھانے کے وقت حتیٰ کہ فلم دیکھتے ہوئے سنیما میں بھی سیل فون استعمال کیا جاتا ہے۔ اس فون کی لت کو ’’فونولزم‘‘ کہا جاتا ہے جو چند برسوں سے محسوس کی جارہی ہے جسے ماہرین صحت اور نفسیات عوام میں شعور بیداری مہم کے ذریعہ کم کرنے کی کاوشوں میں مصروف ہیں۔ واضح رہیکہ سیل فون کا زیادہ استعمال جلد نروس ہوجانا، سردرد (بلکہ شدید سردرد)، توجہ میں کمی، بصارت میں کمی اور ریڑھ کی ہڈیوں میں مسائل، تکالیف کی وجہ بنتا ہے اور ٹریفک حادثات میں اضافہ کی سب سے اہم وجہ مانی جاتی ہے جو پوری دنیا میں اگر سب سے بڑا مسئلہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔