جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں جھڑپ ، ایک پاکستانی سمیت 3 عسکریت پسند ہلاک ، علاقہ میں سخت چوکسی ، انٹرنیٹ سرویس بند
سرینگر۔ 22 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر کے ضلع کولگام میں ایک انکاؤنٹر کے ذریعہ سکیورٹی فورسیس نے پولیس کانسٹیبل کا اغوا اور قتل کرنے والے 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ مرنے والوں میں ایک پاکستانی شہری بھی شامل ہے۔ کانسٹیبل محمد سلیم شاہ جو رخصت پر تھے، ان کی رہائش گاہ کولگام کے مطلامہ علاقہ سے اغوا کرلیا گیا تھا۔ جمعہ کے دن ان کے اغوا کے بعد قتل کیا گیا۔ ان کی نعش موضع رڈوانی پائین میں کل نرسری سے قریب دستیاب ہوئی۔ جسم پر زخمیوں کے شدید نشان تھے۔ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید کا کہنا ہے کہ مارے گئے جنگجو ٹرینی پولیس کانسٹیبل محمد سلیم شاہ کو اغوا اور قتل کرنے میں ملوث تھے ۔پولیس نے مارے گئے جنگجوؤں کی شناخت پاکستانی رہائشی معاویہ، ریڈونی بالا (کولگام) کے رہنے والے سہیل احمد ڈار اور کٹراسو (کولگام) کے رہنے والے مدثر بٹ عرف ریحان کے بطور کی ہے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مہلوک جنگجو ٹرینی پولیس کانسٹیبل کی ہلاکت کے کلیدی ملزم تھے ۔ مسلح تصادم کے دوران دو رہائشی مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔ جنوبی کشمیر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ضلع کھڈونی میں تین جنگجوؤں کی ہلاکت کے خلاف ضلع کے کچھ علاقوں میں مقامی لوگوں کی سیکورٹی فورسزکے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں، تاہم سرکاری ذرائع کے مطابق صورتحال قابو میں ہے ۔انتظامیہ نے احتیاطی طور پر کولگام اور اننت ناگ اضلاع میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات منقطع کرادی ہیں۔ اس کے علاوہ گرمائی دارالحکومت سری نگر اور صوبہ جموں کے بانہال کے درمیان براستہ جنوبی کشمیر چلنے والی ریل خدمات کو بھی معطل کردیا گیا ہے ۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ کھڈونی چوک میں جنگجوؤں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر فوج، جموں وکشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) نے اتوار کی صبح مذکورہ علاقہ میں مشترکہ تلاشی آپریشن شروع کیا۔ انہوں نے بتایا ‘تلاشی آپریشن کے دوران ایک رہائشی مکان میں محصور جنگجوؤں نے سیکورٹی فورسز پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک فوجی اہلکار زخمی ہوا۔