پولیس افسران کی برأت کیخلاف درخواست پر آج فیصلہ

سہراب الدین کیس : گجرات کی عدالت کے فیصلہ کو بمبئی ہائیکورٹ میں چیالنج

ممبئی ۔ /9 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) مشتبہ مجرمین کی ٹولی سے تعلق رکھنے والے سہراب الدین شیخ اس کی بیوی اور ان کا ایک ساتھی کے 2005-2006 ء کے دوران پیش آئے اغواء اور فرضی انکاؤنٹر کیس میں گجرات اور راجستھان پولیس کے چیف سینئر پولیس افسران کو منسوبہ الزامات سے بری کرنے یا نہ کرنے کے سوال پر ممبئی ہائی کورٹ کی طرف سے کل پیر کو فیصلے کا اعلان متوقع ہے ۔ سنٹرل بیورو آفس انوسٹیگیشن (سی بی آئی) کے مطابق سہراب الدین شیخ ، اس کی بیوی کوثر بی اور ان کا ایک ساتھی تلسی رام پرجاپتی ان دونوں ریاستوں کی پولیس کی طرف سے 2006-2005 کے دوران کئے گئے ایک فرضی انکاؤنٹر میں ہلاک ہوگئے تھے ۔ جسٹس اے ایم بدر کی قیادت میں ہائی کورٹ کی واحد رکن بنچ نے /16 جولائی کو اپنا ایک فیصلہ محفوظ کردیا تھا ۔ ہم تحت کی ایک عدالت کی طرف سے گجرات کے آئی پی ایس افسر راجکمار پانڈین گجرات اے ٹی ایس کے سابق سربراہ ڈی جی ونزارا ، گجرات کے پولیس افسر نریندر کمار امین کے علاوہ راجستھان کیڈر کے آئی پی ایس افسر (ملیش ایم این ) اور کانسٹبل دلپت سنگھ راٹھوڑ کو منسوبہ الزامات کو بری کردی تھی ۔ اس کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ممبئی ہائی کورٹ میں نظرثانی کی پانچ درخواستیں دائر کی گئی تھیں ۔ سہراب الدین کے بھائی رباب الدین شیخ اور سی بی آئی کی طرف سے دائر کردہ درخواستوں جسٹس بدر /4 جولائی سے روزانہ بنیاد پر مقدمہ کی سماعت کررہے تھے ۔ رباب الدین شیخ نے ان پانچ کے منجملہ تین درخواستیں دائر کیا تھا ۔ جس میں پانڈین ، دنیش اور ونزارا کو گجرات کی تحت کی عدالت میں بری کئے جانے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا ۔ دیگر دو درخواستیں نریندر امین اور دلپت راٹھوڑ کی برأت کے خلاف سی بی آئی کی طرف سے دائر کی گئی تھیں ۔ سہراب اور اس کی بیوی کوثر بی کے نومبر 2005 ء اور ان کے دوست پرجاپتی کے ڈسمبر 2006 ء میں مبینہ فرضی انکاؤنٹرس کے ضمن میں سی بی آئی نے ان پانچ افسران پولیس کے علاوہ دیگر 33 افراد کو ملزمین بتاتے ہوئے مقدمہ درج کیا تھا ۔ سی بی آئی کی چارج شیٹ کے مطابق گجرات کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) کے افسران اور راجستھان پولیس نے گجرات کے ایک مشتبہ گینگسٹر سہراب الدین شیخ اور اس کی بیوی کوثر بی کا حیدرآباد کے قریب اغواء کرنے کے بعد نومبر 2005 ء میں فرضی انکاؤنٹر میں ہلاک کردیا تھا ۔ ان دونوں کی ہلاکتوں کے ایک چشم دید گواہ تلسی رام پرجاپتی کا گجرات اور راجستھان کے ان پولیس افسران کی ایماء پر ڈسمبر 2006 ء میں راجستھان پولیس کے چند اہلکاروں نے فرضی انکاؤنٹر میں صفایا کردیا تھا ۔