مفادات کی عدم تکمیل پر پارٹی تبدیل، کانگریس پر تنقید نامناسب
حیدرآباد /7 مارچ (سیاست نیوز) مرکزی وزیر جے رام رمیش نے پورندیشوری کو احسان فراموش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ذاتی مفاد کی عدم تکمیل پر کانگریس کو دھوکہ دیتے ہوئے بی جے پی شامل ہوئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے پورندیشوری کو نہ صرف کامیاب بنایا، بلکہ 8 سال تک مختلف وزارتوں پر کام کرنے کا موقع فراہم کیا۔ علاوہ ازیں ریاست کی تقسیم کے معاملے میں ان کے بشمول سیما۔ آندھرا کے کانگریس قائدین نے جو بھی مطالبات کئے، ان میں سوائے حیدرآباد کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنانے کے تمام مطالبات کو قبول کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ مسز پورندیشوری نے وشاکھا پٹنم کے لئے جو بھی تجاویز پیش کیں، انھیں قبول کیا گیا، تاہم ان کی خاندانی اراضیات کی قدر بڑھانے کے لئے رامیا پٹنم کے قریب بندرگاہ بنانے کا مطالبہ قبول نہ کرنے پر وہ کانگریس سے مستعفی ہوکر بی جے پی میں شامل ہو گئیں۔ ہمیں ان کی اس حرکت پر کوئی اعتراض نہیں ہے، تاہم ان کا کانگریس پر تنقید کرنا نامناسب ہے۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس سے سیاسی زندگی شروع کرنے والی پورندیشوری کو پہلی ہی کامیابی پر وزیر بنا دیا گیا، جب کہ برسوں سے کامیاب ہونے والے ارکان پارلیمنٹ کو تاخیر سے وزارت ملی۔ واضح رہے کہ مسز پورندیشوری نے آج دہلی پہنچ کر بی جے پی کے سینئر قائد ایل کے اڈوانی، سشما سوراج اور راجناتھ سنگھ سے ملاقات کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کی، جب کہ اس موقع پر وینکیا نائیڈو بھی موجود تھے۔